حکمران اتحاد کا دوتہائی اکثریت ملنے کے بعد نیب کو ختم کرنے اور آرٹیکل ،63,62 کو بحال کرنے پر غور

قومی اسمبلی میں مخصوص نشستوں کی نئے سرے سے تقسیم کے بعد حکمراں اتحاد کو دوتہائی اکثریت مل گئی ہے اور اس کے ساتھ ہی حکومتی صفوں میں اہم آئینی ترامیم پر غور کیا جا رہا ہے جن میں نیب کا خاتمہ سر فہرست ہے۔

حکمران اتحاد آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کو بھی ان کی اصل شکل میں بحال کرنا چاہتا ہے جو جنرل ضیا الحق دور میں متعارف کردہ ترامیم سے پہلے تھی۔

سانحہ 9 مئی پر کور کمانڈر کانفرنس کے اعلامیہ پر عمران خان کا ردعمل آگیا

قومی میں 23 مخصوص نشستیں الیکشن کمیشن نے ابتدا میں کسی کو الاٹ نہیں کی تھیں کیونکہ سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے لیے درخواست زیرغور تھی۔ تاہم چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن ممبران کی جانب سے ان نشستوں پر فیصلہ جاری کیے جانے کے بعد منگل کے روز یہ 23 نشستیں مسلم لیگ(ن) اور دیگر جماعتوں میں بانٹ دی گئی ہیں جس کے بعد چھ جماعتی حکمران اتحاد کے پاس دوتہائی اکثریت آگئی ہے اور اب ان جماعتوں کے لیے آئین میں ترمیم کرنا ممکن ہو گیا ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان نے اچانک رابطہ کمیٹی ختم کر کے تنظیمِ نو کا آغاز کر دیا

آئین میں ترمیم کیلئے 225 اراکین کی حمایت درکار ہے۔ مخصوص نشستوں کی تقسیم سے پہلے حکمران اتحاد کے بعد 208 ووٹ تھے لیکن اب اسے مطلوبہ نمبر مل گئے ہیں۔

حکومت نیب کے خاتمے اور آرٹیکل 62 و 63 کی ان کی اصل حالت میں بحالی کیلئے ترامیم پر غور کر رہی ہے۔اور چیف جسٹس آف پاکستان کو تین برس کی توسیع دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔

نیب کا خاتمہ اور آرٹیکل 62 و 63 کو ان کی اصل شکل میں بحال کرنا مسلم لیگ (ن) کے منشور میں بھی شامل ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھٹو ریفرنس پر پانچ صفحات پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا

قومی احتساب بیورو یا نیب میں اس وقت مختلف سیاسی رہنماوں کے کئی کیسز زیر التوا ہیں۔ شریف خاندان کے حسن اور حسین نواز بھی نیب مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں جب کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ کو نیب کے 190 ملین پاؤنڈ کیس (جسے القادر ٹرسٹ کیس بھی کہا جاتا ہے) کا سامنا ہے۔

تحریک انصاف نے قومی اسمبلی میں عمر ایوب کو اپوزیشن لیڈر بنانے کی منظوری دے دی

سید مراد علی شاہ میں ایسی کیا خوبیاں ہیں کہ پیپلز پارٹی نے انہیں تیسری بار سندھ کا وزیراعلیٰ بنایا ہے