سانحہ 9 مئی پر کور کمانڈر کانفرنس کے اعلامیہ پر عمران خان کا ردعمل آگیا

اڈیالہ جیل میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ کور کمانڈر کانفرنس کے اعلامیہ کی مکمل تائید کرتا ہوں ،سانحہ 9 مئی کے ملزمان کو کڑی سزا ملنی چاہیے،سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے 9 مئی میں ملوث لوگوں کا تعین کیا جائے،

کیپیٹل ہل حملہ میں بھی سی سی ٹی وی سے لوگوں کو پکڑا گیا تھا،  سانحہ 9 مئی پر ابھی تک جوڈیشل کمیشن کیوں نہیں بنایا گیا؟سانحہ 9 مئی کی آزادانہ انکوائری میں کسی کی دلچسپی نہیں،میں کہتا ہوں کہ 9 مئی والوں کو سزا دیں ، ہماری پارٹی میں کوئی فوج کے خلاف نہیں،انتخابات پر تنقید فوج پر تنقید کیسے ہو سکتی ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان نے اچانک رابطہ کمیٹی ختم کر کے تنظیمِ نو کا آغاز کر دیا

سابق وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں نہ دے کر جمہوریت کی نفی کی گئی،جن کی مخصوص نشستیں نہیں بنتی تھی ان کو کیسے دی جا سکتی ہیں،پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں نہ دیے جانا غیر آئینی عمل ہے،مشرقی پاکستان میں بھی عوام کو مینڈیٹ سے محروم کیا گیا جس کی وجہ سے ملک ٹوٹا،ملک کی تاریخ کا سب سے زیادہ دھاندلی زدہ الیکشن ہوا ہے،دھاندلی زدہ الیکشن سے ملک کی معیشت بیٹھ جائے گی اور نقصان ہوگا،سیاسی استحکام کے بغیر ملک نہیں چل سکتا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھٹو ریفرنس پر پانچ صفحات پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا

عمران خان کا مزید کہنا تھ اکہ شریف خاندان کا سب سے بڑا یو ٹرن پہلے ووٹ کو عزت دو اور اب بوٹ کو عزت دو ہے،انتخابات میں دھاندلی کا الزام نگران حکومت اور الیکشن کمیشن پر آتا ہے۔  انتخابات میں جیتنے والوں کو بھی پتہ ہے کہ دھاندلی ہوئی ہے،اگر یہ سمجھتے ہیں کہ الیکشن ٹھیک ہوئے ہیں تو صرف 4حلقوں کا آڈٹ کروا لیں،پشاور سے نور عالم ، لاہور سے نواز شریف اور عون چودھری جبکہ اسلام آباد کا کوئی حلقہ کھلوا کر آڈٹ کروا لیں ،ان انتخابات سے صرف 3جماعتوں کو فائدہ ہوا ہے۔

تحریک انصاف نے قومی اسمبلی میں عمر ایوب کو اپوزیشن لیڈر بنانے کی منظوری دے دی

عمران خان نے سوال کیا کہ کیا پرا من احتجاج ٹکراؤ ہے اگر یہ ٹکراؤ ہے تو جمہوریت کو ختم کر دیں،مولانا فضل الرحمان اور خواجہ آصف کہہ چکے ہیں کہ جنرل باجوہ نے حکومت گرانے کا کہا تھا۔  باجوہ نے ہمیں بھی یہ کہا تھا کہ اچھے بچے بن جاؤ اور چپ کر کے بیٹھ جاؤ،غلام بن کر نہیں بیٹھ سکتا،ووٹ کسی کو پڑے جتوا کسی کو دیا گیا،نون لیگ کی 25 سے زیادہ نشستیں نہیں تھیں مگر ان کی حکومت بنوا دی گئی، ہمیں غلامی قبول کرنے کا کہا جا رہا ہے غلامی قبول کرنے والی قوم ویسے ہی ختم ہو جاتی ہے۔

9 مئی کا بیانیہ 8 فروری کو فیل ہو گیا،لوگ نہیں مانے کہ ہم نے کوئی غداری کی ہے،جب تک جیل رکھنا ہے رکھیں غلامی قبول نہیں کروں گا،رجیم چینج کے بعد معیشت کا بیڑا غرق ہو گیا۔  ملک کے لیے کہا تھا کہ مستحکم حکومت آنی چاہیے،آئی ایم ایف سے ملاقات میں کہا تھا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معیشت بہتر نہیں ہو سکتی اور یہ شفاف انتخابات سے ہی ممکن ہے۔  ملک کے 70 فیصد پیسے سود کی ادائیگی میں جا رہے ہیں،ملک کے لوگ قرضوں میں پس جائیں گے،جیل میں کسی سے کوئی مذاکرات نہیں ہوئے ،مجھے پتہ ہے کہ پیغام کیوں نہیں بھیجا گیا لیکن یہ ابھی بتا نہیں سکتا۔

سید مراد علی شاہ میں ایسی کیا خوبیاں ہیں کہ پیپلز پارٹی نے انہیں تیسری بار سندھ کا وزیراعلیٰ بنایا ہے