تاریخ میں پہلی بار سندھ ہائی کورٹ نے چار بھارتی شہریوں کو پاکستانی شہریت دینے کا حکم دے دیا

سندھ ہائی کورٹ نے تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے  پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار غیر ملکی مرد حضرات کو شہریت دینے کا حکم دے دیا۔

غیر ملکیوں میں چاروں بھارتی شہری ہیں جنہوں نے پانچ پاکستانی خواتین سے شادی رچائی ، ایک شخص نے دو خواتین سے شادی کی۔

توشہ خانہ گھڑی خریدنے کا دعویٰ کرنے والے عمر فاروق اشتہاری نکلا، بیرون ملک سے پاکستان آیا ہی نہیں

جسٹس محمد شفیع صدیقی نے آبزرویشن میں کہا ہے کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 25 کے مطابق درجہ بندی کئے بغیر مرد خواتین دونوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں ، سٹیزن شپ ایکٹ 1951 میں نافذ ہوا جب آئین پاکستان بنا ہی نہیں تھا اور اس سے قبل بھی گورنمنٹ انڈیا ایکٹ میں بھی خواتین کو اسی طرح سے نظر انداز کیا گیا تھا۔

انیلہ ابرار ، زینب عمران ، نجمہ بانو صوفیہ عمران نے 28 سال قبل علیحدہ علیحدہ دائر درخواستوں میں وفاقی حکومت ، سیکریٹری داخلہ ، ڈی جی نادرا سمیت دیگر کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ انیلہ ابرار نے 1980 میں بھارتی شہری سے شادی کی جو کہ 1980 میں پاکستان میں رہائش پذیر رہا تاہم 1988 میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے غیر قانونی رہائش اختیار کرنے پر گرفتار کر لیا اور تین ماہ قید کی سزا دیتے ہوئے قرار دیا کہ بھارت بھیجے جانے تک جیل میں ہی قید رہے گے۔

جانیے چیئرمین واپڈا کے مطابق دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم سے کتنے سو میگاواٹ سستی بجلی پیدا ہوگی

درخواست گزار نیلوفر ثمر نے 1992 میں بھارتی شہری سے شادی کی اور شوہر وزٹ ویزے پر پاکستان آیا اور شہریت کے لئے درخواست دی جسے متعلقہ حکام نے مسترد کر کے شوہر کو ملک بدر کر دیا گیا۔

مسماۃ صوفیہ عمران اور زینب عمران نے دائر درخواست میں کہا کہ 2011 میں بھارتی شہری عمران یوسف سے شادی کی اور زینب نے 1996 میں شادی کی دونوں خواتین نے بھارت میں شہریت حاصل کرنے کے لئے درخواست جو مسترد ہوگئیں اور انہیں وہاں سے ملک بدر کر دیا گیا۔

درخواست گزار مسماۃ نجمہ بانو نے بھی 1997میں بھارتی شہری سے شادی کی اور شوہر کے لیئے پاکستانی شہریت حاصل کرنے کی درخواست دی جسے مسترد کر دیا گیا۔

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر امریکی محکمہ خارجہ کا ردعمل آ گیا