ایم کیو ایم پاکستان نے اچانک رابطہ کمیٹی ختم کر کے تنظیمِ نو کا آغاز کر دیا

ایم کیو ایم پاکستان کی تنظیمِ نو کا آغاز کردیا گیا ہے۔خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں ایڈہاک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ایم کیو ایم کی جانب سے بدھ کو جاری کیے گیے بیان کے مطابق ’رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں متفقہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ پہلے مرحلے میں کمیٹی کو تحلیل کر کے اس کی تنظیم نو کی جائے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھٹو ریفرنس پر پانچ صفحات پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا

رابطہ کمیٹی کا اجلاس کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی صدارت میں بدھ کو کراچی میں منعقد ہوا۔ دوسرے مرحلے میں تمام شعبہ جات، صوبائی کمیٹی،  ڈسٹرکٹس، زونز، ٹاؤنز اور یوسیز کی تنظیمِ نو کی جائے گی۔‘

کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے ایک مرکزی ایڈہاک کمیٹی تشکیل دی ہے جس کے کنوینر وہ خود ہوں گے۔ایڈہاک کمیٹی کے ارکان میں سید مصطفیٰ کمال، ڈاکٹر فاروق ستار، نسرین جلیل، انیس قائم خانی، کیف الوریٰ اور رضوان بابر شامل ہیں۔

تحریک انصاف نے قومی اسمبلی میں عمر ایوب کو اپوزیشن لیڈر بنانے کی منظوری دے دی

واضح رہے کہ چند روز قبل ایم کیو ایم پاکستان سے تعلق رکھنے والے گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کی مبینہ آڈیو لیک سامنے آئی تھی۔
اس آڈیو لیک میں وہ رابطہ کمیٹی کو پاکستان مسلم لیگ ن سے ہونے والے مذاکرات سے متعلق آگاہ کر رہے تھے۔

اس سے قبل رہنما ایم کیو ایم سید مصطفیٰ کمال کی رابطہ کمیٹی میں گفتگو کی آڈیو بھی لیک ہوئی تھی جس میں وہ رابطہ کمیٹی کو مذاکراتی عمل کے بارے میں بتا رہے تھے۔

اس آڈیو لیک کے بعد مصطفیٰ کمال کی جانب سے ایک ویڈیو پیغام بھی سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے آڈیو اُن کی ہی آڈیو ہے۔

انہوں اپنے پیغام میں مزید کہا تھا کہ ’اس آڈیو میں ایسی کوئی خفیہ بات نہیں تھی جسے لیک کرنے کی صورت میں پیش کیا جا رہا ہے۔‘
سید مصطفی کمال نے آڈیو لیک کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کا الزام ایم کیو ایم لندن پر عائد کیا تھا۔

انہوں نے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ ایک عرصے سے انہیں اور پارٹی کو رابطہ کمیٹی کے لیے کام کرنے والوں کی تلاش تھی۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’آڈیو لیک ہونے سے ہم اپنے درمیان موجود ایم کیو ایم لندن کے لیے کام کرنے والے کو پہچاننے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔‘

دوسری جانب ترجمان ایم کیو ایم پاکستان نے منگل کوایم کیو ایم کے اقلیتی رکن ڈاکٹر موہن منجیانی کی روپوشی اور استعفے کے معاملے پر اعلامیہ جاری کیا تھا۔اعلامیے میں ترجمان ایم کیو ایم کی جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ ’ڈاکٹر موہن کی مشکوک سرگرمیوں کے باعث اُن سے استعفیٰ طلب کیا گیا ہے

سید مراد علی شاہ میں ایسی کیا خوبیاں ہیں کہ پیپلز پارٹی نے انہیں تیسری بار سندھ کا وزیراعلیٰ بنایا ہے