جانیے صدر پاکستان کے لیے انتخابی عمل کا طریقہ کار

صدر پاکستان کے لیے انتخابی عمل اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، انتخابات کا دن 9 مارچ کو مقرر ہے۔ انتخاب آئین کے آرٹیکل 41 اور شیڈول ٹو کے مطابق کرایا جائے گا۔

صدارتی انتخاب کے لیے الیکٹورل کالج میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے اراکین شامل ہوتے ہیں۔  مجلس شوریٰ کے ارکان پارلیمنٹ ہاؤس میں ووٹ کاسٹ کریں گے جبکہ صوبائی اسمبلیوں کے ارکان اپنی اپنی اسمبلیوں میں ووٹ ڈالیں گے۔  کوئی بھی رکن پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی صدارت کے لیے امیدوار نامزد کر سکتا ہے۔

لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت کی طرف سے عمران خان کے لیے اچھی خبریں آگئ

صدارتی انتخاب میں ووٹنگ خفیہ رائے شماری کے ذریعے کی جائے گی جس میں مجلس شوریٰ کے ہر رکن کے ووٹ کو حتمی تعداد میں شمار کیا جائے گا۔

صوبائی اسمبلیوں کے ووٹوں کا حساب ایک مخصوص فارمولے کے ذریعے کیا جائے گا، جس میں سب سے چھوٹی اسمبلی کی کل نشستوں اور متعلقہ صوبائی اسمبلی کی کل نشستوں کی تعداد کو مدنظر رکھا جائے گا۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 2024 کے صدارتی انتخابات کے شیڈول کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔  کاغذات نامزدگی کل دوپہر تک جمع کرائے جاسکتے ہیں جس کی جانچ پڑتال 4 مارچ کو ہوگی۔ امیدوار 5 مارچ کو کاغذات نامزدگی واپس لے سکتے ہیں اور اسی دن امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کردی جائے گی۔  پولنگ 9 مارچ کو صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک ہوگی۔

الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق ووٹنگ قومی اسمبلی ہال اور چاروں صوبائی اسمبلی ہالز میں ہوگی جس سے سینیٹرز، اراکین قومی اسمبلی اور اراکین صوبائی اسمبلی اپنے حق رائے دہی استعمال کر سکیں گے۔

منتخب ہونے والے اراکین اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات کے لیے ڈیڑھ ارب روپے بجٹ کی تیاری

الیکشن کمیشن نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو سینیٹ اور قومی اسمبلی دونوں کے لیے پریزائیڈنگ افسر مقرر کرنے کا شیڈول جاری کر دیا ہے۔  مزید برآں، سندھ الیکشن کمیشن کے رکن پنجاب اسمبلی کے لیے تعینات کیے گئے ہیں، جب کہ متعلقہ صوبائی ہائی کورٹس کے چیف جسٹس دیگر صوبائی اسمبلیوں کے لیے پریزائیڈنگ افسران کے فرائض انجام دیں گے۔

یہ بتانا ضروری ہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی 5 سالہ مدت آئین کے مطابق اپنے اختتام کو پہنچی ہے۔  انہوں نے 9 ستمبر 2018 کو صدر کا عہدہ سنبھالا۔