این اے 15 کے نواز شریف کے خلاف انتخابی نتائج کے کیس میں تمام دلائل مکمل ہونے کے بعد الیکشن کمیشن نے کیس خارج کر دیا

این اے 15 الیکشن عذر کیس کی تازہ ترین سماعت کے دوران نواز شریف کے وکیل نے علاقے میں دوبارہ الیکشن کرانے کا کہا۔  الیکشن کمیشن نے تمام دلائل پیش ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرنے کا فیصلہ کیا۔

نواز شریف کے وکیل جہانگیر جدون نے کہا کہ نواز شریف اور گستاب خان کے ووٹوں میں نمایاں فرق ہے۔  انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ کالا ڈھاکہ کے 123 پولنگ اسٹیشنوں سے 9000 سے زائد ووٹ مسترد ہوئے اور فارم 45 غائب تھا۔

جانیے ضمنی انتخابات کتنی نشستوں اور کن حلقوں میں ہو گا

رکن بابر حسن بھروانہ نے تجویز پیش کی کہ دلائل مختصر ہونے چاہئیں کیونکہ وہ 632 صفحات پر مشتمل نہیں ہیں۔  جہانگیر جدون نے پھر کہا کہ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو الیکشن کمیشن کو ملک بھر میں دوبارہ انتخابات کروانا پڑ سکتے ہیں۔

جب جہانگیر جدون فارم 51 اور بیگ لے کر آئے تو رکن نثار درانی نے کہا کہ اگر وہ تھیلوں کا معائنہ کرنا چاہتے ہیں تو الیکشن ٹربیونل میں جائیں۔  الیکشن کمیشن ذاتی طور پر ہر بیگ کا معائنہ نہیں کرے گا۔  اس کے بعد جہانگیر جدون نے وضاحت کی کہ فارم 45 میں ردوبدل کیا گیا ہے۔

پنجاب میں نو منتخب حکومت کی سولہ رکنی کابینہ کے نام سامنے آگۓ، کابینہ میں کتنے اتحادی شامل ہے

الیکشن کمیشن کے ممبر بابر حسین بھروانہ نے سوال کیا کہ کیا وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ پورے ملک کے انتخابات غیر آئینی، غیر قانونی اور دھاندلی زدہ تھے۔  جہانگیر جدون نے واضح کیا کہ وہ صرف این اے 15 کا حوالہ دے رہے ہیں۔

گستاب خان کے وکیل بابر اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آر او کے خلاف ایف آئی آر کو ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔  انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کوئی عدالت یا ٹربیونل نہیں ہے اور شواہد ریکارڈ نہیں کر سکتا۔  الیکشن کمیشن نے این اے 15 کا معاملہ پہلے ہی ٹربیونل کو بھجوا دیا تھا۔

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت کی طرف سے عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے لیے بڑا ریلیف آگیا

190 ملین پاؤنڈز ریفرنس کی سماعت میں جج ناصر جاوید رانا اور عمران خان کے درمیان مکالمہ

بلاول بھٹو زرداری نے صدارت کے بعد صدر عارف علوی پر دو مقدمات دائر کرنے کا اعلان کر دیا