حکومت کا ماہ رمضان میں 19 ضروری اشیائے خوردونوش پر سات ارب روپے کی سبسڈی دینے کا اعلان

حکومت کے اعلان کے مطابق ملک بھر کے یوٹیلیٹی اسٹورز میں 7 ارب 49 کروڑ روپے کے رمضان پیکج پر عمل درآمد 4 مارچ سے شروع ہوگا۔  19 ضروری اشیاء پر رعایت کے علاوہ مستحقین کو نقد امداد بھی فراہم کی جائے گی۔

وزارت صنعت و پیداوار کے مطابق وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے رمضان پیکج کی منظوری دے دی ہے۔  صرف وہی مستحقین جو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت رجسٹرڈ ہیں اس پیکج کے فوائد حاصل کرنے کے اہل ہوں گے۔  رواں مالی سال کے بجٹ میں 5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، باقی رقم وزیر اعظم کے ریلیف پیکیج کے تحت مختص کی جائے گی۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی کو بتایا گیا ہے کہ فنانس ڈویژن کو فوری طور پر فنڈز جاری کرنے کی ہدایت کی جائے تاکہ رمضان پیکج کے تحت ضروری اشیاء بروقت خریدی جا سکیں۔

جانیے وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق نگراں حکومت نے کتنے ہزار ارب روپے قرضہ حاصل کیا

مزید برآں، حکومت نے رواں مالی سال کے دوران بنیادی ضروریات کے لیے سبسڈی کے طور پر 35 ارب روپے مختص کیے ہیں۔  واضح رہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے غیر ٹارگٹڈ اشیا کے لیے سبسڈی پر پابندی کی وجہ سے حکومت نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت رجسٹرڈ افراد کے لیے صرف منتخب اشیا کے لیے سبسڈی کا انتظام کیا ہے۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلے کے مطابق یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن نے ہائبرڈ سبسڈی ماڈل سے ٹارگٹڈ سبسڈی ماڈل میں تبدیل کر دیا ہے۔

اس وقت یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن 2.69 ملین گھرانوں کو بنیادی ضروریات پر رعایتی نرخوں پر فراہم کر رہی ہے۔  تاہم، یہ رعایت خصوصی طور پر ان لوگوں کے لیے دستیاب ہے جو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت رجسٹرڈ ہیں۔

جانیے وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق نگراں حکومت نے کتنے ہزار ارب روپے قرضہ حاصل کیا

ایران پاکستان گیس پائپ لائن مکمل کرنے کے لیے حکومت 45 ارب روپے کی خطیر رقم کہاں سے لے گی

پانچ سال بعد نہیں اب ہر سال ڈرائیونگ لائسنس کی فیس ادا کریں پنجاب کی نئی ڈرائیونگ لائسنس پالیسی