ایران پاکستان گیس پائپ لائن مکمل کرنے کے لیے حکومت 45 ارب روپے کی خطیر رقم کہاں سے لے گی

ایران پاکستان گیس پائپ لائن کی تعمیر کے لیے حکومت گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (GIDC) کے تحت جمع ہونے والے 45 ارب روپے سے فنڈز فراہم کرے گی۔  یہ پائپ لائن ایرانی سرحد سے گوادر تک 80 کلومیٹر تک پھیلے گی۔

پیٹرولیم ڈویژن کی تجویز نگراں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں منظوری کی منتظر ہے۔  معاہدے کے مطابق 18 ارب ڈالر کے جرمانے کو روکنے کے لیے پاکستان کے لیے کسی بھی قسم کی تاخیر سے گریز کرنا انتہائی ضروری ہے۔

رواں مالی سال کے لیے ڈھائی ارب ڈالر کا بجٹ دستیاب ہوگا۔  باقی ماندہ 42 ارب 50 کروڑ روپے جی آئی ڈی سی بورڈ کی منظوری سے آئندہ مالی سال میں مختص کیے جا سکتے ہیں۔

جرمانے سے بچنے کے لیے فنانس ڈویژن نے ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے پر کام شروع کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

GIDC فنڈز کے استعمال کے بارے میں حتمی فیصلہ ہائی پاورڈ پراجیکٹ بورڈ کے پاس ہے۔  پٹرولیم ڈویژن GIDC بورڈ کو غور کے لیے ایک تجویز پیش کر سکتا ہے۔

ایران پاکستان گیس پائپ لائن ڈیکلریشن پر 24 مئی 2009 کو ایران اور پاکستان کے صدور نے دستخط کیے تھے۔  جنوبی ایران کے پارس گیس فیلڈ سے 25 سال تک گیس حاصل کی جائے گی۔

یہ پائپ لائن ایران میں 1150 کلومیٹر اور پاکستان میں 781 کلومیٹر پر پھیلی ہوئی ہے۔  ابتدائی طور پر گیس کی سپلائی یکم جنوری 2015 کو شروع ہونا تھی۔ ایران نے پائپ لائن کے 900 کلومیٹر پر کام مکمل کر لیا ہے۔

معروف یوٹیوبر اور صحافی عمران ریاض خان ایک بار پھر لاہور سے گرفتار

وفاقی کابینہ نے 3 جون 2009 کو گیس کی خریداری کے معاہدے کی منظوری دی تھی اور اس پر باضابطہ طور پر 5 جون 2009 کو دستخط کیے گئے تھے۔

28 مئی 2010 کو حکومت نے انٹر سٹیٹ گیس سسٹمز لمیٹڈ کو ایک خودمختار گارنٹی فراہم کی تاہم ایران پر بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے اس منصوبے پر مکمل عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے۔

پاکستان کو درپیش چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے، ایرانی حکومت نے یکم دسمبر 2012 کو بین الحکومتی تعاون کے معاہدے کے تحت مالی وسائل فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ بعد ازاں 30 جنوری 2013 کو وفاقی کابینہ نے اس کی منظوری دی۔

17 مارچ 2014 کو ایرانی حکومت یکطرفہ طور پر معاہدے سے دستبردار ہوگئی، جس کے نتیجے میں منصوبے کی سرگرمیاں رک گئیں۔

چین کے تعاون سے گوادر کو نواب شاہ سے ملانے والے ایل این جی ٹرمینل اور پائپ لائن منصوبے کے قیام کی تجویز پیش کرتے ہوئے ایک متبادل طریقہ تجویز کیا گیا۔  اپریل 2016 میں، چینی حکومت نے چائنا پیٹرولیم پائپ لائن بیورو کو اس منصوبے کی نگرانی کے لیے نامزد کیا۔

اگر پاکستان اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہا تو اسے جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔  تاہم ایران کے ساتھ مذاکرات کے بعد فرانسیسی سول کوڈ کے تحت معاہدے میں مزید پانچ سال کی توسیع کر دی گئی۔  یہ توسیع باضابطہ طور پر 27 فروری 2019 کو دی گئی تھی۔

پانچ سال بعد نہیں اب ہر سال ڈرائیونگ لائسنس کی فیس ادا کریں پنجاب کی نئی ڈرائیونگ لائسنس پالیسی

وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد، 5 ستمبر 2019 کو ترمیمی معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے۔ تب سے، پاکستانی حکومت نے منصوبے کی تکمیل کو تیز کرنے کے لیے ایران کے ساتھ مختلف سطحوں پر رابطہ برقرار رکھا ہے۔

ایران کو پاکستان کے اقدامات کے بارے میں باضابطہ طور پر مطلع کر دیا گیا ہے، اور دونوں حکومتیں جرمانے کی حد تک صورتحال کو بڑھنے سے روکنے کے لیے تعاون کر رہی ہیں۔

بدقسمتی سے ایران پر عائد بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے پیچیدگیاں پیدا ہوئی ہیں جس کی وجہ سے اس منصوبے کی بروقت تکمیل میں تاخیر ہو رہی ہے۔  جس کے نتیجے میں صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔

ان چیلنجوں سے نمٹنے کی کوشش میں، پاکستان نے روس، چین، ترکمانستان اور آذربائیجان سے رابطہ کیا ہے، اور اس منصوبے میں ان کی شمولیت اور تعاون کے خواہاں ہیں۔

پنجاب کے ڈیڑھ ہزار اساتذہ کو پانچ سال میں بی ایڈ نہ کرنے پر ملازمت سے برخاست کیے جانے کا امکان

دنیا بھر میں کتنے پاکستانی جیلوں میں قید ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے رپورٹ پیش کر دی

امریکہ کوئی پابندی نہ لگائے تو پاکستان نے ایران گیس پائپ لائن منصوبے کو دو مرحلوں میں مکمل کرنے کا فیصلہ کر لیا