کیا پیپلز پارٹی, مسلم لیگ ن کے ساتھ حکومت بناۓ گی، بلاول بھٹو نے پلان بتا دیا

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ پارٹی کے پاس وفاقی سطح پر حکومت بنانے کا اختیار نہیں ہے۔  اگر پارلیمنٹ وزیراعظم کا انتخاب کرنے میں ناکام رہی تو ہم ایک بار پھر انتخابات کرانے پر مجبور ہوں گے۔  پی ٹی آئی نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کر دیا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین بلاول بھٹو نے اس بات پر زور دیا کہ ہم پاکستان کے اتحاد کی وکالت کرتے رہیں گے۔  میں ذاتی طور پر وزیراعظم کے عہدے کا دعویدار نہیں ہوں۔  مسلم لیگ نواز کے پاس خاصی اکثریت ہے اور وہ صرف وہی ہیں جنہوں نے ہم سے رابطہ کیا ہے۔  اس کی روشنی میں پیپلز پارٹی نے بلاول بھٹو کی حمایت کی صورت میں ہمارے منشور پر کاربند رہنے اور کسی بھی وزارت کو قبول کرنے سے گریز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کا بنیادی فیصلہ پاکستان کی فلاح و بہبود کو ترجیح دینا ہے۔  ہمارے پاس وفاقی سطح پر حکومت کرنے کا مینڈیٹ نہیں ہے۔  قومی اسمبلی کی تعداد بتاتی ہے کہ اگر پارلیمنٹ وزیراعظم کا انتخاب کرنے میں ناکام رہتی ہے تو اسے ایک بار پھر انتخابات کرانے کی ضرورت ہوگی۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ حکومت بنانے کا فیصلہ تحریک انصاف یا مسلم لیگ ن کو کرنا ہے۔  پاکستان پیپلز پارٹی نے دیگر جماعتوں سے مذاکرات کے لیے کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔  ہمارا مقصد ملک کو اس بحران سے نکالنا اور اسے ایک ایسی سمت کی طرف لے جانا ہے جہاں قیاس آرائیاں ختم ہو جائیں، کیونکہ پاکستانی عوام اپنے سیاستدانوں کو بے تابی سے دیکھ رہے ہیں۔

بلاول بھٹو نے انکشاف کیا کہ مسلم لیگ ن نے ہمیں حمایت کی دعوت دی ہے۔  ہمیں نہ صرف سیاسی بحران کا سامنا ہے بلکہ معاشی بحران کا بھی سامنا ہے۔  ہم مرکزی حکومت سے کوئی وزارت نہیں چاہتے اور نہ ہی قبول کریں گے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی ان انتخابات کے نتائج کو یقینی طور پر تسلیم کرے گی۔  ہمارے قائدین نے پنجاب کے حوالے سے متعدد تحفظات کا اظہار کیا ہے۔  چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) کو فیلڈنگ، دھاندلی اور بے ضابطگیوں سے متعلق شکایات موصول ہوں گی۔

ان تحفظات کے باوجود، ہم عام انتخابات کے نتائج کو قبول کریں گے اور دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر ان خامیوں کو اجاگر کرتے ہوئے آگے بڑھیں گے۔  عوام استحکام کے خواہاں ہیں اور یوں پیپلز پارٹی نے تمام اعتراضات کے باوجود انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بلاول بھٹو نے پاکستانی قوم کو یہ پیغام دینے کی خواہش پر زور دیا کہ تمام مسائل پارلیمنٹ کے اندر ہی حل کیے جائیں گے۔  واضح مینڈیٹ قائم نہیں ہوسکا ہے اور نہ ہی مسلم لیگ (ن) اور نہ ہی پیپلز پارٹی آزادانہ طور پر حکومت بناسکتے ہیں۔  اگر دوبارہ انتخابات ہوئے تو کوئی بھی سیاسی جماعت نتائج کو قبول کرے گی۔  پی ٹی آئی آج بھی سیاسی فیصلے کرنے کے بجائے جمہوریت سے متصادم فیصلے کرتی رہتی ہے۔  عوام نے اپنے مسائل کے حل کے لیے پی ٹی آئی کو منتخب کیا۔

پیپلز پارٹی حکومت میں وزارتیں نہیں سنبھالے گی۔  یہ واحد سیاسی جماعت ہے جو سمجھتی ہے کہ عوام کے مسائل کیسے حل کیے جائیں۔  ہم پیپلز پارٹی کو بلوچستان اور سندھ میں حکومت بنانے کے لیے بھرپور کوششیں کریں گے۔  ملک کو مشکلات سے نکالنے کی صلاحیت صرف زرداری میں ہے۔