جانیے انتخابات میں کتنے حلقوں کے رزلٹ عدالت میں چیلنج کیے گئے ہیں

لاہور ہائی کورٹ رجسٹرار آفس کے جسٹس علی باقر نجفی جاری کاز لسٹ کے مطابق پیر 12 فروری کو مذکورہ درخواستوں کی سماعت کریں گے۔

ادھر انتخابات میں ناکام ہونے والے امیدواروں کی جانب سے انتخابی نتائج کو چیلنج کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

این اے 130 لاہور سے آزاد امیدوار اشتیاق چوہدری نے مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف کی جیت کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا۔

این اے 15 مانسہرہ سے نواز شریف نے بھی آزاد امیدوار گستاخ خان کی جیت کو الیکشن کمیشن میں چیلنج کر دیا ہے۔

درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 125 سے زائد پولنگ اسٹیشنز نے فارم 45 جمع نہیں کروائے، اس کے باوجود نتائج کا اعلان کیا گیا۔

لاہور کے حلقہ این اے 119 سے آزاد امیدوار شہزاد فاروق نے مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر مریم نواز کی جیت کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔

جمعیت علمائے اسلام ف اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کا انتخابی نتائج کے خلاف سندھ بھر میں دھرنے اور احتجاج کا اعلان

این اے 71 سیالکوٹ سے آزاد امیدوار ریحانہ امتیاز ڈار نے مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف کی جیت کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا۔  درخواست دوبارہ گنتی اور فارم 47 کے نتیجے کو کالعدم قرار دینے کی ہے۔

این اے 148 ملتان سے آزاد امیدوار بیرسٹر تیمور الطاف نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی جیت کو چیلنج کرتے ہوئے آر او کو دوبارہ گنتی کی درخواست دے دی۔

این اے 118 سے آزاد امیدوار عالیہ حمزہ کے شوہر نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما حمزہ شہباز کی جیت کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا۔  حمزہ شہباز اور عالیہ حمزہ میں 5 ہزار 157 ووٹوں کا فرق ہے۔

این اے 127 لاہور سے آزاد امیدوار ظہیر عباس نے مسلم لیگ (ن) کے عطا تارڑ کی جیت کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا۔

این اے 55 راولپنڈی اور فارم 47 کے امیدوار راجہ بشارت کے نتائج کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔  درخواست میں استدلال کیا گیا ہے کہ راجہ بشارت نے امیدواروں کے فارم 45 کی بنیاد پر کامیابی حاصل کی۔

جانیے عام انتخابات میں ووٹرز ٹرن آؤٹ کتنا رہا، اور ماضی کے انتخابات میں ووٹرز ٹرن آؤٹ کتنا تھا

این اے 117 لاہور سے آزاد امیدوار علی اعجاز بٹر نے آئی پی پی سے عبدالعلیم خان کی جیت کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا۔

پنجاب اسمبلی کی نشست پی پی 46 سیالکوٹ سے الیکشن لڑنے والے عمر ڈار کی اہلیہ روبا عمر نے مسلم لیگ ن کے فیصل اکرم کی جیت کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا۔

اسی طرح کراچی کے حلقہ این اے 248 سے آزاد امیدوار ارسلان خالد نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی کی جیت کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔

این اے 238 کراچی سے آزاد امیدوار حلیم عادل شیخ نے بھی ایم کیو ایم پاکستان کے صادق افتخار کی جیت کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔

مزید برآں آزاد امیدوار جان شیر جونیجو نے کراچی کے پی ایس 98 میں ایم کیو ایم کے امیدوار ارسلان کی کامیابی کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا۔

این اے 231 ملیر میں پیپلز پارٹی کے عبدالحکیم بلوچ کی جیت کو سندھ ہائی کورٹ میں بھی چیلنج کر دیا گیا ہے۔  آزاد امیدوار خالد محمود نے درخواست میں موقف اختیار کیا کہ فارم 45 کے مطابق حکیم بلوچ الیکشن ہار گئے تھے۔

آخری بار آزاد امیدوار جاوید چھتاری نے این اے 241 سے پیپلز پارٹی کے مرزا اختر بیگ کی جیت کو چیلنج کیا ہے۔

پاکستان میں 8 فروری کو ہونے والے انتخابات میں اصل میں کتنے آزاد امیدوار کامیاب ہوے ہیں

انتخابی عمل اور انتخابی نتائج پر جانیے عالمی میڈیا کی رپورٹنگ

رزلٹ روک کر انتخابی نتائج کو تبدیل کرنا اور مخلوط حکومت کا بننا کیا ملک میں استحکام لا سکے گا