فسانہ ہائے کرامات رہ گئے باقی

سیاست تقریباً اتنی ہی قدیمی ہے جتنا کہ انسان اور اسکی خطابت۔ چنانچہ روز اول سے سیاست کے پرامن ادوار بھی پرفتن رہے ہیں۔ اس تحریر کا مقصد سیاست کے کچھ اثرات کو بغیر ذکر کیے انگریز کے دور سے لیکر اب تک کی سیاست کے چند ایک تحریری مشاہدات ہیں۔ میں کوئ رائٹر تو نہیں لیکن آج چند باتیں آپ سے کرنا چاھتا ہوں امید ہے غلطیوں اور کوتاہیوں کو قارئین درگزر کریں گے۔

جب انگریز ہندوستان کی سرزمین میں آئے اور ان کی سلطنت بیسویں صدی کی دوسری دہائی کے استحکام میں داخل ہو گئ۔ تو اس دور میں کئ قسم کے اجتماعات کی ابتدا کی گئی۔ بعض قومی، تعلیمی، ادبی، معاشری، اور سیاسی تحریکیں پیدا ہوئیں۔ یہ کہنا بالکل غلط نہ ہو گا کہ آج ہم علم و ادب اور سیاست و ثقافت کی جن وادیوں میں گامزن ہیں۔ وہ اکثر و پیشتر برطانوی عہد کی یادگار ہیں۔ اور ان پر واضح طور پر مغربیت کی مہر لگی ہوئ ہے۔ المختصر ہمارے قومی اجتماعات اور سیاسی تقریبات یورپی ضمیر و خمیر کی پیداوار ہیں اور ان کا نصف مغربی حکماء کی روایتوں سے تیار ہوا ہے۔ اور وہ چیز جس کا عرف رائے عامہ ہے اپنی اساس کے اعتبار سے مغربی ہے۔

نور مسجد۔۔۔۔۔۔۔ایک دلچسپ اور اصلاحی تحریر

بقول شاعر مشرق۔
اس کھیل میں تعیین مراتب ہے ضروری
شاطر کی عنایت سے تو فرزیں میں پیادہ
بیچارہ پیادہ تو ہے اک مہرہ نا چیز
فرزیں سے بھی پوشیدہ ہے شاطر کا ارادہ

جب انگریزوں نے سبسڈی ائیر سسٹم کے ذریعے ایک ایک کر کے تمام آزاد ریاستوں کو ختم کر دیا۔ غالباً 1849 سے ليكر 1947 تک کئی ریاستوں سمیت سندھ اور پنجاب پر بھی قبضہ کر لیا اس طرح تمام ہندوستان انگریزوں کے زیرنگیں آ گیا۔ اب چونکہ انگریزوں کے اقتدار کو چیلنج کرنے والی کوئی شخصیت باقی نہ رہی تھی اس لیئے ان کے کافرانہ دل مزید تکبر میں مبتلا ہو گئے۔ اور اہل ہند کے خلاف انکی ذہنیت فقط نفرت و حقارت کے جذبات پیدا کرتی گئی۔ حالات حاضرہ بھی اسی گردش میں ہیں۔

اب چونکہ ہندوستان کے لوگ انگریزوں کے سیاسی غلام بن چکے تھے۔ تو انہوں نے ان کی ذہنیت کو بھی غلام بنانے کی کوششیں کیں۔ جس میں وہ کافی حد تک کامیاب بھی ہوئے۔ انگریزوں کو ان تمام کارکردگیوں پر آمادہ کرنے میں ہندوؤں کا بھی ایک بڑا کردار ہے۔ اسے کسی طرح سے بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسی دوران دسمبر 1945 میں انتخابات ہوئے مسلم لیگ نے یہ انتخابات نظریہ پاکستان کی بنیاد پر لڑے۔ اور مرکزی اسمبلی کی تیس تیس نشستیں جیت لیں۔ اس کے بعد سے ظلم و ستم کا طوفان چل پڑا۔ سکھوں اور ہندوؤں نے قیام پاکستان کا مطالبہ کرنے والوں پر عرصہء حیات تنگ کر دیا۔ ماؤں بہنوں کی عزتیں پامال ہونے لگیں۔ بیٹیوں کے سہاگ اجڑنے لگے۔ اور فرقہ وارانہ فسادات نے بہت بری اور بھیانک صورت اختیار کر لی۔ وزارتی مشن اور عبوری حکومت کا قیام سب کچھ ناکام ہو گیا۔ آخر کار برطانیہ حکومت کو احساس ہوا کہ اب برصغیر پر حکومت کرنا ان کے بس کا روگ نہیں۔ اس لئیے انہوں نے اعلان کر دیا کہ وہ بہت جلد یہاں سے چلے جائیں گئے۔
اور پھر وہ واقعی چلے گئے۔ لیکن اپنی فحاشی و عریانی کو بعض لوگوں کے دل و دماغ  میں گاڑ دیا۔ اور اور اس کی نگہداشت کے لیئے لوگوں کو تیار کرنا شروع کر دیا۔ یقین کیجیۓ آج بھی اس نظام کے خواہشمند آپ کو جگہ جگہ مل سکتے ہیں۔ اگر ہماری عام عوام یا اس نظام کی مخالفت کرنے والوں کو قتل کیا جاتا ہے یا قید و بند کی صعوبتوں سے گزارا جاتا ہے تو فوراً شاباشی وصول ہوتی ہے۔ اور اگر اس نظام کے دلدادہ لوگوں کو ان کے جرم کی سزا دینے کوشش بھی کرتے ہیں۔ تو ان کے ہاتھ ہمارے گریبان پر ہوتے ہیں۔

چار سو دینار۔۔۔۔۔۔اصلاحی کہانی

خیر انگریزوں کے جانے کے بعد لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو برعظیم کا آخری وائسرائے بنا کر اور تقسیم ہند کے تمام اختیارات دے کر ہندوستان بھیجا گیا۔ اس نے 2 جون 1947 کو مسلم لیگ اور کانگریسی رہنماؤں کو ملاقات کے لیے طلب کیا اور یہ اعلان کیا کہ اقتدار کی منتقلی 15 اگست 1947 کو کر دی جائیگی۔ 3 جون 1947 کو ہندوستان کے نمائندےہ سیاسی راہنماؤں نے اس منصوبے کی منظوری کا اعلان کر دیا اور اس طرح 14 اگست 1947 کو دنیا کے نقشے میں پاکستان ایک نئے اسلامی ملک کی حیثیت سے روشن ہوا۔ یہ سب تو پاکستان بننے سے قبل کے واقعات و حالات تھے جب پاکستان ایک بڑی قربانی کے بعد معرض وجود میں آیا۔ تو ہزاروں مشکلات اور الجھنیں بکھری پڑی تھیں۔ انہی مسائل میں سے ایک بڑا مسئلہ مسلئہ کشمیر تھا۔ چونکہ اس وقت قائد اعظم اور مسلمانان پاکستان کا واحد مقصد قیام پاکستان اور دنیائے اسلام کا اتحاد تھا۔

کشمیر کی قدیم تاریخ پانچ ہزار سال ق۔م سے شروع ہوتی ہے قبل از اسلام یہاں ہندوؤں کی حکومت تھی۔ اور ہندومت رائج تھا جب اشوک نے 250 ق۔م میں کشمیر کو فتح کیا تو ہندو مت کی جگہ بدھ مت نے لے لی۔ صوفی مبلغ حضرت بلبل شاہ جب کشمیر آئے تو اس وقت کشمیر کا حاکم رنچنا تھا جو کہ بدھ مت کا پیروکار تھا مگر اس سے نالان بھی اور کسی سچے مذہب کی تلاش میں تھا۔ اس ملاقات جب حضرت بلبل شاہ سے ہوئی تو ان سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر لیا اور رنچنا سے سلطان صدر الدین بن گیا اور کشمیر میں اسلامی حکومت کی داغ بیل ڈالی۔

مسئلہ کشمیر کو جب قائد اعظم نے پر امن طریقے سے حل کرنے کے لئے بھارتی حکمرانوں کو یہ پیشکش کی کہ پاکستان اور بھارت کے گورنر جنرل کی نگرانی میں مسئلہ کشمیر میں استصواب رائے عامہ کرایا جائے۔ اور کشمیر کی عوام جو فیصلہ کرے دونوں حکومتیں اسے تسلیم کرلیں۔ لیکن بھارت نے اس تجویز کو رد کرتے ہوئے کشمیر پر فوجی قوت کے ذریعے قبضہ کرنے کے لیے حملہ کر دیا۔ جب اس کی اطلاع قائد اعظم کو ملی تو انہوں نے پاکستانی فوج بھیج دی تا کہ بھارت کی جارحیت کو روکا جا سکے۔ مگر افسوس کہ مسلسل جد وجہد کے باعث قائد اعظم سخت بیمار ہوئے اور دوران علالت ہی اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔

اللہ پر یقین کی ایک پیاری داستان

اور پھر مسئلہ کشمیر کو فقط کھیل بنا 75 سالوں سے کھیلا جا رہا ہے۔ اس طور پر کہ کھلاڑی بھی نہ گریں اور تماشائی بھی خوش ہو کر داد دیتے رہیں۔ اسی طرح حالیہ سیاست کا میدان بھی دیکھ لیجئے کچھ بھی مختلف نہیں ہے۔ جیسا پاکستان بننے سے پہلے سب کچھ تھا آج بھی ہے۔ دولت شہرت اور عہدے کی لالچ میں مرد و زن کی تمیز سے بےنیاز  غلیظ بےہودہ کلمات اور ایک دوسرے پر بہتان طرازی کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ ہاں صرف اتنا فرق ہے کہ وہاں دشمن ہندو انگریز اور یہودی تھے۔ جبکہ یہاں مسلمان مسلمان کے گلے کاٹ رہے ہیں۔ نفرت و تحقیر انگریز جاتے جاتے ہمارے ذہنوں میں پیوست کر گئے۔ آج پاکستانی قوم اور لوگوں نے بجائے سیاست کو مذہب کا حصہ سمجھنے کے مذہب کو سیاست اور اس کا حصہ بنا لیا ہے۔ اورکچھ انگریزمزاج لوگ پاکستان کی 22 کروڑ عوام کو کیا معلوم کب سے سبز باغ دکھاتے آئے ہیں۔ بس یہ ذہن نشین کر لیجئے کہ عادل حکمران وہاں ہی اتارے جاتے ہیں جہاں لوگ انصاف پسند ہوں اور ریاست مدینہ ان لوگوں کو عطا ہوتی ہے جو اخوت اور رحم ہو جہان قانون اللّٰہ کے قرآن کا ہو۔
بقول اقبال۔
اک مفلس خوددار یہ کہتا تھا خدا سے
میں کر نہیں سکتا گلئہ درد فقیری
لیکن یہ بتا تیری اجازت سے فرشتے
کرتے ہیں عطا مرد فرومایہ کو میری؟

سات سو سال پہلے لکھی گئی ابن خلدون کی یہ تحریر پاکستان کے حالات کی عکاسی کرتی ہے

پاکستان کا سنہری ترین دور، دلچسپ اور خوشگوار حقائق کی داستان