آزاد امیدوار کس پارٹی میں شامل ہو گے،بڑی خبر آگئ

پاکستان میں 12ویں عام انتخابات کے نتائج کی بنیاد پر یہ بات عیاں ہے کہ جیتنے والے آزاد امیدوار کی ایک بڑی تعداد پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد ارکان کی ہے۔  الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قومی اسمبلی کی 122 نشستوں کے مصدقہ نتائج جاری کر دیے ہیں جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جیتنے والے اراکین میں سے 49 آزاد امیدوار ہیں۔  دوسرے نمبر پر مسلم لیگ (ن) 39 نشستوں کے ساتھ ہے جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی 30 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔  اسی طرح ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی صوبائی اسمبلی کی 154 نشستوں میں سے جیتنے والے امیدواروں میں سے 74 آزاد ارکان ہیں۔

پاکستان میں آزاد امیدواروں کی اکثریتی کامیابی پر امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کا ردعمل آگیا

ان آزاد امیدواروں کو اسمبلی کا حلف اٹھانے کے تین دن کے اندر کسی سیاسی جماعت میں شامل ہونا ضروری ہے۔  جو پارٹی سب سے زیادہ آزاد امیدواروں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا انتظام کرتی ہے اسے حکومت بنانے کا اختیار حاصل ہوگا۔  نتیجتاً، آزاد اراکین مستقبل کی حکومت کی تشکیل پر خاصا اثر و رسوخ رکھتے ہیں اور اپنی شرائط کسی بھی سیاسی جماعت کو دے سکتے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے علاوہ دیگر دو بڑی جماعتوں کو متحد ہو کر زیادہ سے زیادہ آزاد امیدواروں کو اپنی طرف متوجہ کرنا ہو گا تاکہ حکومت کو محفوظ بنایا جا سکے۔  پاکستان کے انتخابی حلقوں پر گہری نظر رکھنے والے ایک تجزیہ کار احمد اعجاز کی رپورٹ ہے کہ اب تک جیتنے والے قومی اسمبلی کے 60 امیدواروں میں سے 45 کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے ہے۔

قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں کتنی مخصوص نشستیں ہے اور انہیں کس فارمولے پر پارٹیوں کو دیا جاتا ہے

اگر مسلم لیگ (ن) بقیہ 150 نشستوں پر اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی تو اپنی پارٹی میں زیادہ سے زیادہ آزاد امیدواروں کو شامل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔  تاہم، اس عمل کو چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔  سینئر تجزیہ کار ضیغم خان نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جیتنے والے آزاد ارکان کی اکثریت پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ مضبوطی سے منسلک ہے اور کسی بھی صورت میں پارٹی چھوڑنے کا امکان نہیں ہے۔

احمد اعجاز نے کہا کہ نواز شریف اور آصف زرداری اب زیادہ سے زیادہ آزاد امیدواروں کو اکٹھا کرنے کے مقابلے میں مصروف ہیں۔  آصف زرداری کو خاص طور پر اپنے سابقہ ​​ٹریک ریکارڈ کی وجہ سے ایک اہم چیلنج کا سامنا ہے۔

اعجاز نے مزید کہا کہ اگر مسلم لیگ (ن) اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہتی ہے تو وہ اپوزیشن کا کردار سنبھالنے کے لیے تیار ہیں۔  بتایا گیا ہے کہ نواز شریف نے اپنے قریبی ساتھیوں کو اعتماد میں لیتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں اکثریت حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تو وہ اپوزیشن میں بیٹھنے پر آمادگی کا اظہار کر چکے ہیں۔  یہ فیصلہ اس سمجھ سے نکلتا ہے کہ ان کی پارٹی موجودہ حالات میں کافی سیاسی بوجھ برداشت نہیں کر سکتی۔

الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کے حلقوں کے نتائج کا اعلان کر دیا۔بڑے بڑے سیاسی برج الٹ گئے

مایوس کن انتخابی نتائج نواز شریف ناراض ہو کر وکٹری سپیچ کیے بغیر ماڈل ٹاؤن سے چلے گے

پی ٹی آئی کے رہنما بیرسٹر گوہر علی خان نے حکومت بنانے کے حوالے سے بڑا اعلان کر دیا