چار سو دینار۔۔۔۔۔۔اصلاحی کہانی

ایک بادشاہ نے اعلان کیا تھا کہ جو کوئی اچھی بات کہے گا اسے چار سو دینار جو کہ سونے کے سکے ہوں گے انعام دیا جائے گا۔

ایک دن بادشاہ اپنی رعایا کی خدمت کے لیے نکلا تو ایک نوے سالہ عورت پر نظر پڑی جو زیتون کے درخت لگا رہی تھی۔  اس کی محنت سے حیران ہو کر، بادشاہ نے اس کی کوششوں کے مقصد پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ اتنی دیر زندہ نہیں رہے گی کہ درختوں کو پھل دیکھ سکے۔

اس کے جواب میں، بوڑھی عورت نے بتایا کہ وہ پھلوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں جو ان کے آباؤ اجداد نے لگائے تھے، اور اب وہ انہیں آنے والی نسلوں کے فائدے کے لیے لگا رہے ہیں۔  اس کی باتوں سے متاثر ہو کر بادشاہ نے اسے چار سو دینار انعام دینے کا فیصلہ کیا۔  سکے ملنے پر بوڑھی عورت مسکرا دی۔

اللہ پر یقین کی ایک پیاری داستان

اس کی مسکراہٹ پر متجسس ہو کر بادشاہ نے اس کی وجہ دریافت کی۔  بوڑھی عورت نے خوشی سے جواب دیا کہ جب کہ زیتون کے درختوں پر بیس سال بعد پھل آنے کی امید تھی لیکن اسے اس کا اجر مل چکا تھا۔  یہ بات بادشاہ کو پسند آئی اور اس نے اسے مزید چار سو دینار دینے کا حکم دیا۔

ایک بار پھر، بوڑھی عورت اضافی سکے حاصل کر کے مسکرا دی۔

بادشاہ نے اس کی خوشی سے متجسس ہو کر وضاحت طلب کی۔  بوڑھی عورت نے بتایا کہ زیتون کا درخت عام طور پر سال میں صرف ایک بار پھل دیتا ہے، لیکن اس کے درخت نے پہلے ہی دو بار پھل دیا تھا۔  اس کی عقلمندی سے متاثر ہو کر بادشاہ نے اسے ایک بار پھر چار سو دینار دینے کا فیصلہ کیا۔

یہ حکم دیتے ہی بادشاہ تیزی سے وہاں سے چلا گیا
وزیر نے پوچھا حضور آپ وہاں سے جلدی کیوں نکل آئے؟

بادشاہ نے کہا اگر میں مزید اس عورت کے پاس رہتا تو میرا سارا خزانہ خالی ہو جاتا مگر عورت کی دانشمندانہ باتیں کبھی ختم نہیں ہوں گی۔

یہ کہانی ہمیں مہربان الفاظ کی طاقت سکھاتی ہے، کیونکہ ان میں دلوں کو موہ لینے، دشمنوں کو دوست بنانے اور یہاں تک کہ بادشاہوں کو قریب لانے کی صلاحیت ہوتی ہے۔

اچھے الفاظ نہ صرف دوستی کو بڑھاتے ہیں اور دنیا میں دشمنوں کو کم کرتے ہیں بلکہ آخرت میں بھی اجروثواب لاتے ہیں۔  اگرچہ دولت مادی اشیاء خرید سکتی ہے، لیکن یہ صرف اچھے الفاظ کے ذریعے ہی دوسروں کا دل جیت سکتا ہے۔  اس لیے دولت کے متلاشی کے بجائے دلوں کا خریدار بننا ضروری ہے۔

سات سو سال پہلے لکھی گئی ابن خلدون کی یہ تحریر پاکستان کے حالات کی عکاسی کرتی ہے

پاکستان کا سنہری ترین دور، دلچسپ اور خوشگوار حقائق کی داستان

کیا ہمارا رب رحیم ہے یا ظالم؟ ایک دلچسپ تحریر

مثالی زندگی گزارنے کے لیے قران پاک کے آٹھ سنہری اصول