سعودی حکومت کا احسن اقدام، اب زائرین غار حرا کی زیارت آرام اور سکون سے سکیں گے

العربیہ چینل کے مطابق سعودی حکومت کے مکہ رائل کمیشن، وزارت ثقافت کے تحت آرکیالوجی انسٹی ٹیوٹ، سعودی وژن کے تحت ضوف الرحمن پروگرام، محکمہ سیاحت، مکہ میونسپلٹی اور محکمہ شہری دفاع سمیت مختلف اداروں کی جانب سے ایک جامع پروگرام نافذ کیا گیا ہے۔  غار حرا کے زائرین کو تمام ضروری سہولیات فراہم کرنا۔

عمرہ اور حج کے دوران عازمین کے تجربے کو بڑھانے کے لیے غار حرا کے قریب ایک وقف مرکز قائم کیا گیا ہے۔  یہ مرکز غار حرا کی تلاش میں دلچسپی رکھنے والے زائرین کے لیے معلوماتی مرکز کے طور پر کام کرتا ہے۔

سعودی حکومت نے زائرین کے محفوظ اور آسان سفر کو یقینی بناتے ہوئے پہاڑ کی بنیاد سے غار حرا تک پوری سڑک کو ہموار کرنے کا اقدام اٹھایا ہے۔  اس سے قبل زائرین کو اپنے طور پر دشوار گزار راستوں پر جانا پڑتا تھا جس کے نتیجے میں اکثر حادثات پیش آتے تھے۔

مستقبل قریب میں، زائرین کو غار حرا کے دامن میں واقع حرہ ثقافتی مرکز سے نجی گاڑیوں کے ذریعے غار حرا تک پہنچنے کا موقع ملے گا۔  مرکز اور غار حرا کے درمیان فاصلہ تقریباً 3 کلومیٹر ہے۔

العربیہ چینل کے مطابق زائرین کو مرکز کے ذریعے پورے غار حرا کی سیر کرنے کا شرف حاصل ہوگا۔  وہ غار حرا کے بارے میں درست معلومات حاصل کریں گے اور اپنے سفر پر جانے سے پہلے ضروری حفاظتی رہنما خطوط فراہم کیے جائیں گے۔

متحدہ عرب امارات کا گولڈن ویزا کون سے لوگ اور کیسے حاصل کر سکتے ہے اور اس کے کیا فوائد ہیں

مزید برآں، غار حرا کے اندر ایک تجارتی مرکز قائم کیا گیا ہے، جو مختلف قسم کی مصنوعات جیسے سینڈوچ، پرفیوم اور یادگاری اشیاء پیش کرتا ہے۔  زائرین اس مرکز سے مکہ اور کعبہ کے ماڈل، چھتری، نماز کی چٹائی، پانی کی بوتلیں اور دیگر ضروری اشیاء خرید سکتے ہیں۔

یہ توقع کی جاتی ہے کہ آنے والے دنوں میں غار حرا کے زائرین کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہوگا، کیونکہ اس پروگرام کا مقصد زائرین کے لیے ایک یادگار اور بھرپور تجربہ بنانا ہے۔

کویت فیملی ویزا پالیسی میں سختی، پاکستان سمیت 7 ممالک کے افراد کے لیے مشکلات میں اضافہ

کینیڈا میں سٹڈی ویزا پالیسی برائے 2024-2025

یورپی یونین کا تارکین وطن کے لیے Migration and Asylum کے نام سے نئے معاہدے پر اتفاق