اللہ پر یقین کی ایک پیاری داستان

ایک نیک آدمی اپنی نوبیاہتا بیوی کے ساتھ گھر واپس جا رہا تھا، اور انہیں سفر میں ایک دریا عبور کرنا تھا۔  اس آدمی نے ایک کشتی کا انتظام کیا، اور انہوں نے طاقتور ڈینیوب دریا کے پار اپنا سفر شروع کیا۔

جب وہ دریا کے قریب پہنچے تو اچانک ایک شدید طوفان برپا ہو گیا جس سے بیوی خوف زدہ ہو گئی۔  تاہم، وہ آدمی پرسکون اور مرتب رہا، ایک ایسا برتاؤ جو اس کے لیے غیر معمولی نہیں تھا۔  یہ دیکھ کر بیوی حیران رہ گئی اور غصے سے اٹھ کھڑی ہوئی۔

"تم غافل ہو! طوفان ہماری کشتی الٹنے کے دہانے پر ہے۔ ہماری جانیں خطرے میں ہیں، پھر بھی تم مطمئن ہو کر بیٹھی ہو،” اس نے چیخ کر کہا۔

اس کی باتیں سن کر شوہر نے اپنی تلوار کھول کر نرمی سے بیوی کے سر پر رکھ دی۔

سات سو سال پہلے لکھی گئی ابن خلدون کی یہ تحریر پاکستان کے حالات کی عکاسی کرتی ہے

جواب میں بیوی ہنس پڑی اور سوال کیا کہ یہ کیسا مذاق ہے؟

شوہر نے استفسار کیا کہ کیا تم اب موت سے نہیں ڈرتی میں تمہارا گلہ کاٹ دوں گ، یہ سن کر کیا تمہیں مجھ پر اور میری محبت پر یقین ہے؟ بیوینے کہا میں جانتی ہوں کہ تمہیں مجھ سے بے پناہ محبت ہے اور یہ تلوار تمہارے ہاتھ میں ہے، مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔

شوہر نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ جس طرح تمہیں میری محبت پر یقین ہے مجھے اللہ کی محبت پر یقین ہے یہ طوفان بھی اللہ کے قابو میں ہے اگر وہ روکنا چاہے گا تو وہ ہمیں بچا لے گا۔  یہاں تک کہ اگر اس کا مطلب ہماری کشتی کو ڈوبنا ہے۔”

ہمیں اللہ پر ایسا اٹل ایمان پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے

پاکستان کا سنہری ترین دور، دلچسپ اور خوشگوار حقائق کی داستان

کیا ہمارا رب رحیم ہے یا ظالم؟ ایک دلچسپ تحریر

مثالی زندگی گزارنے کے لیے قران پاک کے آٹھ سنہری اصول

اولاد کی نیک تربیت