آئندہ عام انتخابات کے دوران پاک فوج کی کیا ذمہ داریاں ہو گی

2024 میں ہونے والے آئندہ عام انتخابات میں پاک فوج امن و امان برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔  پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 245 کے مطابق فوج متعلقہ علاقوں میں کوئیک ری ایکشن فورس کے طور پر کام کرے گی، جو انتخابات کے دوران سیکیورٹی کے تیسرے درجے کے طور پر کام کرے گی۔

انتخابات کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کی بنیادی ذمہ داری پولیس فورس پر عائد ہوتی ہے۔  دوسرے مرحلے میں، سول آرمڈ فورسز، جیسے کہ رینجرز اور فرنٹیئر کور، سیکورٹی کو یقینی بنانے کی ذمہ دار ہوں گی۔

تیسرے درجے میں، پاکستان آرمی کو عام پولنگ والے علاقوں میں کسی بھی ممکنہ سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے تعینات کیا جائے گا۔  یہ تعیناتی آئین پاکستان کے آرٹیکل 220 اور 245 کے ساتھ ساتھ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے سیکشن 4 اور 5 اور الیکشنز ایکٹ 2017 کے سیکشن 193 کے مطابق ہے۔

پی ٹی آئی کے سابق چیئرمین عمران خان نے آئندہ الیکشن پر پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کو مشورہ دے دیا

سول آرمڈ فورسز اور پاکستان آرمی دونوں مل کر ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر، ریٹرننگ آفیسر، پریذائیڈنگ آفیسر اور پولنگ سٹاف کے لیے اپنے فرائض کو مؤثر طریقے سے انجام دینے کے لیے ایک محفوظ ماحول پیدا کریں گے۔

بیلٹ پیپرز کی چھپائی کے دوران نٹنگ پریس کی حفاظت کی ذمہ داری صرف سول آرمڈ فورسز کو سونپی جائے گی۔

ریٹرننگ افسران کے دفاتر سے انتخابی مواد کی پولنگ سٹیشنوں تک لے جانے کے ساتھ ساتھ گنتی کے عمل اور الیکشن مکمل ہونے کے بعد افسران کے دفاتر میں مواد کی واپسی کے لیے بھی حفاظتی اقدامات کیے جائیں گے۔

الیکشن کے دن پرامن ماحول کو یقینی بنانے کے لیے دفعہ 144 کے تحت اسلحے کی نمائش پر مکمل پابندی ہوگی، الیکشن کمیشن آف پاکستان کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق افسر اور جے سی او کے اختیارات استعمال کیے جائیں گے۔

سیکیورٹی کے درجات کے لحاظ سے، پولیس ٹائر ون کے لیے، ٹائر ٹو کے لیے سول آرمڈ فورسز اور ٹائر تھری کے لیے پاکستان آرمی ذمہ دار ہوگی۔  ذمہ داریوں کی اس تقسیم کا مقصد ایک محفوظ اور ہموار انتخابی عمل کو یقینی بنانا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے جنرل باڈی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئ

آئندہ تفصیلات کے مطابق بیلٹ پیپرز کی پرنٹنگ پریس سے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر کے دفاتر تک نقل و حمل کے دوران سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے سول آرمڈ فورسز اور پاک فوج تعینات کی جائے گی۔

پریزائیڈنگ آفیسر، اسسٹنٹ پریذائیڈنگ آفیسر، اور پولنگ آفیسر کے کام میں سول آرمڈ فورسز اور پاکستان کی مسلح افواج مداخلت نہیں کریں گی۔  وہ انتہائی حساس پولنگ سٹیشن کے باہر اپنے فرائض سرانجام دیں گے۔

پولنگ سٹیشن کے احاطے میں داخل ہونے والے افراد کی مکمل تلاشی لی جائے گی تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی ہتھیار، دھماکہ خیز مواد یا ممنوعہ اشیاء اندر نہ لائے جائیں۔

اس لیے گنتی کے عمل میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی۔  گنتی کے عمل کو پرامن طریقے سے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے فورسز پولنگ اسٹیشن کے باہر اپنی ڈیوٹی پوری تندہی سے سرانجام دیں گی۔

پولنگ اسٹیشن کے باہر کسی بھی بے ضابطگی، مسئلہ یا بدانتظامی کی صورت میں، سول آرمڈ فورسز اور پاکستان آرمی اس کی اطلاع پریزائیڈنگ آفیسر اور اپنے اعلیٰ کمانڈر کو دیں گے، اور فراہم کردہ ہدایات کی بنیاد پر اس کے مطابق کارروائی کریں گے۔

پاکستان کی سول آرمڈ فورسز کسی بھی اہل ووٹر کو پولنگ سٹیشن میں داخل ہونے سے نہیں روکیں گی، سوائے ان لوگوں کے جو ہتھیار، دھماکہ خیز مواد، ممنوعہ مواد لے کر پائے گئے ہوں، یا تشدد پر اکسانے والے یا قومی مفاد/سلامتی کے لیے خطرہ ہوں۔  کسی بھی غیر مجاز نقل و حرکت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

موجودہ ہدایات کے مطابق سول آرمڈ فورسز اور پاک فوج پولنگ عملے کی ذمہ داریاں نہیں سنبھالیں گے۔  تاہم، اگر پولنگ سٹیشن پر کوئی بدنظمی یا بدانتظامی نظر آتی ہے تو وہ فوری طور پر انچارج افسر کو مطلع کریں گے تاکہ ضروری قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جا سکے۔

تجزیہ کاروں کی راۓ میں مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کے منشور کس حد تک قابل عمل ہیں

خیبر پختونخوا میں 8 رہنما ایسے ہیں جو 8 فروری کو ہونے والے انتخابات میں جیتنے پر وزیراعلیٰ بننا چاہتے ہیں