کیا ہمارا رب رحیم ہے یا ظالم؟ ایک دلچسپ تحریر

کیا ہمارا رب رحیم ہے یا ظالم؟ ایک دلچسپ تحریر

 

ایک شہر میں ایک عورت رہتی تھی جو بیوہ ہو گئی اور اسے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔  اس کے سات بچے تھے اوراس کے پاس صرف تین درہم تھے۔  صورت حال سے نمٹنے کے لیے وہ بازار گئی اور تین درہم مالیت کی اون خریدی۔  اس نے اس میں سے کچھ بنایا اور اسے بیچ کر پانچ درہم کمائے۔

اس کی کمائی ہوئی رقم سے اس نے دو درہم میں کھانے پینے کی چیزیں خریدیں اور باقی تین درہم مزید اون خریدنے کے لیے استعمال کیں۔  وہ کچھ دن اسی طرح زندگی بسر کرتی رہی، یہاں تک کہ ایک دن بازار سے کھانا اور اون لے کر گھر لوٹی۔ ﺍﻭﻥ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﭘﯿﻨﺎ ﺩﯾﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﮐﮩﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﮌﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﻥ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ۔عورت نے اپنے حالات سے اتنا مغلوب محسوس کیا کہ اس کی خواہش تھی کہ اس کی ساری دنیا چھین لی جائے۔  وہ مستقبل کے بارے میں خوفزدہ تھی اور غم اور غصے سے بھر گئی۔

مثالی زندگی گزارنے کے لیے قران پاک کے آٹھ سنہری اصول

دوسرے دن جناب داؤد طائی کے گھر گی اور انہیں اپنی پریشانی بتائ اور پوچھا کہ ہمارا رب رحیم ہے یا ظالم؟  جناب داؤد تائی جو اپنی پریشان دنیا میں عورت کو تسلی دے رہے تھے دروازے پر دستک ہونے سے رک گئی۔  انہوں نے جب دروازہ کھولا تو وہاں دس اجنبی کھڑے پائے۔

انہوں نے ان سے پوچھا کہ وہ کیوں آئے ہیں، اور ان میں سے ایک نے بتایا کہ وہ سمندر میں ایک کشتی پر تھے ﮨﻤﺎﺭﯼ ﮐﺸﺘﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔ ﭘﺎﻧﯽ ﺍﺱ ﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﺑﮭﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ کہ انہیں لگا کہ وہ مر جائیں گے۔  مصیبت کے اس وقت ان میں سے ہر ایک نے وعدہ کیا کہ اگر اللہ نے ان کی جان بخشی تو وہ ہر ایک کو ایک ایک ہزار درہم صدقہ کریں گے۔

جب وہ نماز پڑھ رہے تھے تو ایک پرندہ اُڑ کر اُن کی کشتی میں اون کا ایک گولہ گرا دیا۔  انہوں نے جلدی سے کشتی کو لنگر انداز کیا، پانی خالی کیا، اور قریبی ساحل کی طرف چل پڑے۔  چونکہ وہ اس جگہ اجنبی تھے، اس لیے انہوں نے لوگوں سے ایک معزز شخص کا نام پوچھا، اور انہیں جناب داؤد طائی کی طرف متوجہ کیا گیا۔  وہ دس ہزار درہم دینے آئے تھے اور معلوم کریں کہ کون اس کا مستحق ہے۔

جناب داؤد تائی رب کی حکمت سے حیران اور پریشان تھے۔  وہ دس ہزار درہم لے کر بیوہ کے پاس چلے گے۔  انہوں نے اسے ساری رقم دے دی اور اس سے سوال کیا: کیا ہمارا رب رحیم ہے یا ظالم؟

بیوہ نے اپنے آپ کو خدا کی الوہی موجودگی پر نظریں جمائے ہوئے پایا، اس کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہو گئیں۔  ایسا لگا جیسے اس کے وجود کا ہر ایک انچ، سر سے پاؤں تک، اللہ تعالیٰ کے شکر گزاری کے گہرے احساس میں ڈوبا ہوا ہے۔

یاد رکھیں، اللہ کے منصوبے ہمیشہ ہماری اپنی توقعات سے بڑھ جاتے ہیں۔  اللہ کا شکر ادا کرنا اور اس پر اٹل بھروسہ رکھنا بہت ضروری ہے، کیونکہ وہ کبھی کسی کو تنہا نہیں چھوڑتا۔

اولاد کی نیک تربیت

مشکل حالات میں ہیرا بنے۔۔۔۔۔۔اصلاحی کہانی

اپنے ٹینک میں شارک رکھیں۔۔۔۔دلچسپ اصلاحی تحریر

وَيَمۡنَعُونَ ٱلۡمَاعُونَ۔۔۔۔۔ایک آیت ایک کہانی