تجزیہ کاروں کی راۓ میں مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کے منشور کس حد تک قابل عمل ہیں

تجزیہ کاروں کی راۓ میں مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کے منشور کس حد تک قابل عمل ہیں

 

پاکستان کی دو اہم سیاسی جماعتوں مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی نے 2024 کے انتخابات کے لیے اپنے منشور کا اعلان کر دیا ہے۔  تاہم ملک میں بہت سے لوگ ان وعدوں کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔

ووٹروں کی جانب سے نہ صرف ان وعدوں کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا بلکہ ماہرین یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ کیا یہ واقعی پورے ہو سکتے ہیں۔

سابق نگراں وزیراعلیٰ اور پنجاب کے سینئر تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری کا ماننا ہے کہ دونوں جماعتوں کے منشور محض خوابوں اور خواہشات کا مجموعہ ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ کسی بھی پارٹی نے اس بات کی وضاحت نہیں کی ہے کہ وہ اپنے وعدوں پر عمل درآمد کیسے کریں گے، خاص طور پر معیشت کی موجودہ حالت کو دیکھتے ہوئے۔

خیبر پختونخوا میں 8 رہنما ایسے ہیں جو 8 فروری کو ہونے والے انتخابات میں جیتنے پر وزیراعلیٰ بننا چاہتے ہیں

ڈاکٹر حسن عسکری یہ بھی بتاتے ہیں کہ عام آدمی ان منشور کے مندرجات سے بھی واقف نہیں ہے، کیونکہ یہ اکثر محض رسمی طور پر جاری کیے جاتے ہیں۔  ان کا خیال ہے کہ ان منشوروں کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ان کے مطابق یہ سب صرف کاغذی کارروائی ہے۔  اگر سیاسی جماعتیں اپنے وعدوں کے بارے میں واقعی سنجیدہ ہوتیں تو انہیں یہ بتانے کی ضرورت ہوتی کہ انہیں ان کی تکمیل کے لیے فنڈز کہاں سے ملیں گے۔

ڈان ٹیلی ویژن کی تجزیہ کار اور کرنٹ افیئرز کی میزبان نادیہ نقی اس جائزے سے متفق ہیں۔  وہ بتاتی ہیں کہ پی پی پی اور مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) دونوں اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے جو نظام وضع کریں گے اس کے بارے میں تفصیلات فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما سینیٹر مشاہد حسین سید کی اہم عہدے پر تعیناتی

وہ کہتی ہیں، "اگر آپ ان کے منشور پڑھیں، تو آپ دیکھیں گے کہ ان کے پاس اپنے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے کوئی پانچ سالہ اقتصادی منصوبہ یا کوئی واضح حکمت عملی نہیں ہے۔”

نادیہ نقی نے مزید روشنی ڈالی کہ جب کہ نواز لیگ ایک کروڑ سے زائد نوکریاں پیدا کرنے کا وعدہ کرتی ہے اور بلاول تین لاکھ گھروں کا وعدہ کرتے ہیں، کوئی بھی پارٹی یہ نہیں بتاتی کہ وہ یہ اہداف کیسے حاصل کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایک کروڑ نوکریوں کی بات کریں تو عمران خان نے بھی یہی وعدہ کیا تھا۔  اگر آپ نواز لیگ سے اس وعدے کی سچائی کے بارے میں پوچھیں تو وہ کہتے ہیں کہ مواقع پیدا کریں گے، لیکن یہ کیسے کریں گے؟  اسی طرح بلاول سے تین لاکھ گھروں کے بارے میں پوچھیں تو وہ کہتے ہیں کہ ایک کمرے کا گھر بنائیں گے۔  لیکن ہر گھر میں کچن اور باتھ روم کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ کیسے چلے گا؟

نادیہ نقی کے مطابق نواز لیگ کا تنخواہیں دگنی کرنے کا دعویٰ بھی عملی نہیں ہے۔  سب سے پہلے، ان کے پاس اس کے لیے مالی انتظامات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، یا انھوں نے ابھی تک اس کا اشتراک نہیں کیا ہے۔

انہوں نے کہا، "لیکن اگر ہم ان پر یقین بھی کریں، تو وہ صرف سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کر سکتے ہیں۔”  وہ ملک کے لاکھوں پرائیویٹ ملازمین کے حالات زندگی کیسے بہتر کریں گے اور ان کی تنخواہوں میں اضافہ کیسے کریں گے؟

پی ٹی آئی رہنما صنم جاوید این اے 119 سے مریم نواز کے مقابلے سے دستبردار، بہن فلک جاوید نے ٹوئٹر پر تصدیق کر دی

نادیہ نقی نے ذکر کیا کہ کسی بھی پارٹی کے منشور میں پاکستان میں ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے، تاجروں پر ٹیکس لگانے اور زراعت جیسے بڑے مسائل کو حل کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔  پی آئی اے اور سٹیل ملز کی بہتری یا نجکاری کا بھی کوئی ذکر نہیں اور نہ ہی معاشی ترقی کا کوئی ذکر ہے۔  "یہ صرف اقتدار حاصل کرنے کے وعدوں سے بھری دستاویز ہے۔”

نادیہ نقی کا خیال ہے کہ پاکستان کو منشوروں کی بنیاد پر انتخابات کرانے کے سلسلے میں ابھی بہت طویل سفر طے کرنا ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے انتخابی منشور پیش کیا

ملک بھر میں کتنے پولنگ اسٹیشنز بنائے جائیں گے الیکشن کمیشن نے تفصیل جاری کر دی