سائفر کیس میں پی ٹی آئی کے بانی اور شاہ محمود قریشی دونوں کو 10 سال قید کی سزا سنا دی گی

سائفر کیس میں پی ٹی آئی کے بانی اور شاہ محمود قریشی دونوں کو 10 سال قید کی سزا سنا دی گی

 

تازہ ترین عدالتی سیشن میں پی ٹی آئی کے بانی اور شاہ محمود قریشی دونوں کو 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔  گزشتہ سماعت میں انہیں دفعہ 342 کے تحت جواب دینے کے لیے چھتیس سوالات پر مشتمل ایک سوالنامہ دیا گیا تھا۔

چودہ گھنٹے تک جاری رہنے والی سماعت کے دوران عدالت نے مزید گیارہ گواہوں پر جرح مکمل کی جس سے کل گواہوں کی تعداد پچیس ہوگئی۔  سابق سیکرٹری خارجہ سہیل محمود، سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، سابق سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر، سیکرٹری داخلہ آفتاب اکبر درانی اور سابق سفیر عاصم جید ان لوگوں میں شامل تھے جن کے بیانات پر جرح کی گئی۔

جرح کے دوران شاہ محمود قریشی نے ریاستی دفاعی کونسل پر اعتراض اٹھایا۔  اس کے جواب میں عدالت نے انہیں خبردار کیا کہ وہ بیٹھ جائیں ورنہ کمرہ عدالت سے نکال دیا جائے گا۔

پی ٹی آئی کے بانی اور شاہ محمود دونوں نے جج پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔  وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں عدالت سے نمٹنا مشکل ہو گیا ہے۔  انہوں نے عدالت کی تشکیل کردہ دفاعی کونسل کی اہلیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ صرف چودہ گھنٹوں میں کیس کو سمجھنا ناممکن ہے۔  سپریم کورٹ نے فوری ٹرائل کا مطالبہ کیا تھا لیکن اس نے یہ واضح نہیں کیا کہ اسے روزانہ کی بنیاد پر چلایا جائے۔

جواب میں جج ابوالحسنات نے وضاحت کی کہ جب ملزمان جیل میں ہوتے ہیں تو روزانہ سماعت ہوتی ہے۔  شاہ محمود نے مزید کہا کہ اگر ضمانت مل بھی جاتی ہے تب بھی انہیں اندر رہ کر اللہ کو جواب دینا ہو گا۔  پی ٹی آئی کے بانی نے عدالتی کارروائی کا فکسڈ میچ سے موازنہ کرتے ہوئے حاضری کی اجازت دینے کی استدعا کی اور صورتحال میں ان کے کردار پر سوال اٹھایا۔