پولنگ سٹیشنز کو کس بنیاد پر حساس یا انتہائی حساس قرار دیا جاتا ہے

پولنگ سٹیشنز کو کس بنیاد پر حساس یا انتہائی حساس قرار دیا جاتا ہے

 

قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی یا لوکل گورنمنٹ کی نشستوں کے ضمنی انتخابات یا عام انتخابات کے لیے پولنگ سٹیشنوں کی درجہ بندی سیکورٹی کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان ہر پولنگ سٹیشن کی سیکیورٹی صورتحال کا خود تعین نہیں کرتا۔  اس کے بجائے، یہ فیصلہ کرنے کے لیے پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ضلعی حکومت کی رپورٹوں پر انحصار کرتا ہے۔

پولنگ سٹیشنوں کی عام، حساس یا انتہائی حساس کیٹیگریز میں درجہ بندی صوبائی حکومت کو انتخابات کے دن مناسب حفاظتی اقدامات کی تعیناتی کی اجازت دیتی ہے۔

آئندہ انتخابات کی سیکیورٹی کے لیے پنجاب بھر میں 5 فروری کو ہی فوج تعینات کرنے کا فیصلہ

ہر پولنگ سٹیشن کی حدود میں مذہبی، فرقہ وارانہ، لسانی تنظیموں اور انتہا پسند گروہوں کی موجودگی جیسے عوامل کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔  مزید برآں، پولنگ سٹیشن کی ماضی کی سیکیورٹی صورتحال پر غور کیا جاتا ہے۔

اگر کسی پولنگ سٹیشن کو پہلے معمول کے مطابق درجہ بندی کیا گیا تھا لیکن آئندہ انتخابات سے قبل رپورٹ میں سکیورٹی خدشات کا اظہار کیا گیا ہے تو اسے دوبارہ حساس یا انتہائی حساس قرار دیا جا سکتا ہے۔  یہ یقینی بناتا ہے کہ الیکشن کے دوران کسی بھی ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے مناسب حفاظتی انتظامات کیے جاسکتے ہیں۔

8 فروری تک ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس کی بندش پر سندھ ہائی کورٹ کا بڑا حکم آگیا

پنجاب میں کونسی پارٹی سب سے زیادہ مقبول ہے، انسٹی ٹیوٹ فار پبلک اوپینین ریسرچ (آئی پی او آر) نے سروے جاری کر دیا

جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، پی ٹی آئی امیدواروں اور ان کے حلقوں کو کیسے تلاش کرے، پی ٹی آئی نے جدید طریقہ ڈھونڈ لیا

نگراں وفاقی کابینہ نے آئندہ انتخابات کے دوران فوج اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے