بین الاقوامی عدالت انصاف غزہ میں جنگ بندی کا حکم نہ دے سکی، اسرائیل کے خلاف جنوبی افریقہ کی درخواست پر فیصلہ

بین الاقوامی عدالت انصاف غزہ میں جنگ بندی کا حکم نہ دے سکی، اسرائیل کے خلاف جنوبی افریقہ کی درخواست پر فیصلہ

 

بین الاقوامی عدالت انصاف نے حال ہی میں اسرائیل کے خلاف جنوبی افریقہ کی درخواست کے جواب میں ایک عبوری حکم جاری کیا ہے۔

عدالت نے جنگ زدہ غزہ کے شہریوں کے تحفظ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

تاہم یہ بات اہم ہے کہ عدالت نے خاص طور پر جنگ بندی کا حکم نہیں دیا۔  اس کے بجائے، عدالت نے اسرائیل کو ہدایت کی ہے کہ وہ نسل کشی کنونشن کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور اپنی فوج کے نسل کشی کے اقدامات کی تحقیقات کرے۔

مزید برآں، عدالت نے اسرائیل کو غزہ میں انسانی امداد کی ترسیل کی اجازت دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔  جنوبی افریقہ کی درخواست کو عدالت نے خارج نہیں کیا، کیونکہ اسے درخواست دائر کرنے کا حق حاصل تھا۔

بین الاقوامی عدالت انصاف کے صدر جان ای ڈونوگھو نے عدالت کی جانب سے خطے میں انسانی المیے سے آگاہی اور انسانی جانوں کے ضیاع پر تشویش کا اظہار کیا۔

عدالت نے غزہ میں نسل کشی کے حوالے سے جنوبی افریقہ کی جانب سے جمع کرائے گئے وسیع مواد پر غور کیا، جس میں اقوام متحدہ کی مختلف رپورٹس بھی شامل ہیں جن میں بمباری کے بعد ناقابل رہائش حالات پر روشنی ڈالی گئی تھی۔  جبکہ عبوری اقدامات کو برقرار رکھا گیا ہے، اس مرحلے پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ حقائق کی مزید جانچ کی ضرورت ہے۔

سعودی عرب دارالحکومت ریاض میں غیر مسلم سفارت کاروں کے لیے شراب خانہ کھولنے کی تیاریاں

11 اور 12 جنوری کو جنوبی افریقہ اور اسرائیل دونوں نے اپنے اپنے موقف کی حمایت میں اپنے دلائل بین الاقوامی عدالت کے سامنے پیش کئے۔

فیصلہ پینل کے 17 میں سے 16 ججوں کی موجودگی میں سنایا گیا۔  جنوبی افریقہ کی درخواست میں عدالت سے اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی بمباری کو روکنے کا حکم دینے کی استدعا کی گئی تھی۔

اسرائیل نے حماس کے ساتھ جنگ ​​بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے لیے چھ شرائط پیش کر دی

ایودھیا میں رام مندر کا افتتاح اور مسلمانوں کی حالت زار