آئندہ انتخابات کی سیکیورٹی کے لیے پنجاب بھر میں 5 فروری کو ہی فوج تعینات کرنے کا فیصلہ

آئندہ انتخابات کی سیکیورٹی کے لیے پنجاب بھر میں 5 فروری کو ہی فوج تعینات کرنے کا فیصلہ

 

محکمہ داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ انتخابات کے لیے 5 فروری کو پنجاب میں فوج تعینات کی جائے گی۔  یہ فیصلہ انتخابات کی سیکیورٹی اور پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے پیشگی کیا گیا تھا۔  فوج پنجاب کے تمام اضلاع میں تعینات رہے گی اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس اور انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔

فوج کی تعیناتی کے علاوہ پنجاب پولیس نے بھی انتخابی سیکیورٹی بڑھانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔  رضاکاروں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے تمام پولیس ملازمین کو ڈیوٹی پر تعینات کیا جائے گا اور گزشتہ انتخابات کے دوران خدمات انجام دینے والے 160,000 رضاکاروں کو تعینات نہیں کیا جائے گا۔  اس فیصلے کے نتیجے میں 45 کروڑ سے زیادہ کی اہم بچت ہوگی۔

8 فروری تک ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس کی بندش پر سندھ ہائی کورٹ کا بڑا حکم آگیا

آئندہ انتخابات کے لیے مجموعی طور پر 1 لاکھ 30 ہزار پولیس اہلکار، 66 ہزار آرمی اور رینجرز اہلکار اور 13 ہزار 100 خواتین اہلکار سیکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات ہوں گے۔

حساس پولنگ اسٹیشنز کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ایسے 5 اسٹیشنز پر 4 اہلکار تعینات کیے جائیں گے جب کہ 5 پولنگ اسٹیشنز پر 2 اہلکار موٹر سائیکلوں پر گشت کریں گے۔  مزید برآں، 25 پولنگ سٹیشنوں پر 6 اہلکار گشت کی ڈیوٹی پر مامور ہوں گے۔  ان اقدامات کا مقصد ووٹروں کے لیے محفوظ ماحول کو برقرار رکھنا اور منصفانہ انتخابی عمل کو آسان بنانا ہے۔

پنجاب میں کونسی پارٹی سب سے زیادہ مقبول ہے، انسٹی ٹیوٹ فار پبلک اوپینین ریسرچ (آئی پی او آر) نے سروے جاری کر دیا

جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، پی ٹی آئی امیدواروں اور ان کے حلقوں کو کیسے تلاش کرے، پی ٹی آئی نے جدید طریقہ ڈھونڈ لیا

نگراں وفاقی کابینہ نے آئندہ انتخابات کے دوران فوج اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے

الیکشن کمیشن آف پاکستان انتخابی نتائج کا اعلان کب کرے گا اور الیکشن میں کون سی نئی ٹیکنالوجی کا استعمال کرے گا