اللہ کے ساتھ اپنا کاروبار کریں…..دل کو چھو لینے والی تحریر

اللہ کے ساتھ اپنا کاروبار کریں…..دل کو چھو لینے والی تحریر

 

 

ایک گاہک فروٹ کی دکان میں داخل ہوا اور کلو کا وزن دریافت کیا۔  دکاندار نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کیلے کی قیمت 12 درہم اور سیب کی قیمت 10 درہم ہے۔

تھوڑی دیر بعد ایک عورت دکان میں داخل ہوئی اور ایک کلو سیب اور کیلے خریدنے کی خواہش ظاہر کی۔دکاندار نے اسے بتایا کہ کیلے کی قیمت 3 درہم اور سیب کی قیمت 2 درہم ہے۔

گاہک جو پہلے سے ہی دکان میں موجود تھا نے غصے سے دکاندار کی طرف دیکھا۔  اس سے پہلے کہ صورتحال مزید بگڑتی، دکاندار نے اپنی آنکھیں رگڑتے ہوئے گاہک کو انتظار کرنے کی ہدایت کی۔

گولڈن روزہ……اصلاحی کہانی

عورت اپنی خریداری سے مطمئن ہو کر خوشی خوشی دکان سے چلی گئی۔

عورت کے جانے کے بعد دکاندار موجودہ گاہک کی طرف متوجہ ہوا اور اسے یقین دلایا کہ اللہ گواہ ہے میں نے تمہیں دھوکہ دینے کی کوشش نہیں کی۔

یہ بات سامنے آئی کہ خاتون چار یتیم بچوں کی ماں تھی اور کسی بھی قسم کی امداد قبول کرنے سے گریزاں تھی۔  دکاندار نے ماضی میں اس کی مدد کرنے کی متعدد ناکام کوششیں کیں۔

اب، اس نے کسی ممکنہ نقصان کو کم سے کم کرتے ہوئے، احتیاط سے اس کی مدد کرنے کا ایک طریقہ ڈھونڈ لیا تھا۔  وہ چاہتا تھا کہ وہ یقین کرے کہ اسے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔  اس نے اللہ کے ساتھ اپنا کاروبار کیا، اس کی خوشنودی اور اطمینان کی تلاش میں۔

غصے کے سانپ کو قابو میں رکھے۔۔۔ایک اصلاحی کہانی

دکاندار نے بتایا کہ خاتون ہفتے میں ایک بار دکان پر جاتی تھی۔  اسے یقین تھا کہ جس دن وہ آئے گی اس کا منافع بڑھ جائے گا، گویا اس کی بکری بڑھے گی اور اللہ کے چھپے ہوئے خزانے بڑھ جائیں گے۔

دکاندار کی بات سن کر گاہک کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔  اس نے دکاندار کی پیشانی پر بوسہ دیا اور کہا، صرف وہی لوگ صحیح معنوں میں سمجھ سکتے ہیں جنہوں نے کوشش کی ہے کہ لوگوں کی ضروریات پوری ہونے کی خوشی کیا ہو۔‘

سسرال