پاکستان اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باوجود پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تجارت بدستور جاری ہے

پاکستان اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باوجود پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تجارت بدستور جاری ہے

پاکستان اور ایران
فوٹو بشکریہ گوگل امیجز

 

ایرانی فوج کی جانب سے فضائی خلاف ورزیوں، پاکستانی حدود میں کارروائیوں اور ایرانی حدود میں پاکستانی فورسز کی جوابی کارروائیوں سے پیدا ہونے والی کشیدگی کے باوجود پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تجارت بدستور جاری ہے۔

مکران کے کمشنر سعید احمد عمرانی کے مطابق، سرحدی شہروں تفتان، گوادر، کیچ، پنجگور اور واشک کے ذریعے تجارت پانچ سرحدی اضلاع سے سرحدی بندش کی کسی شکایت کے بغیر جاری ہے۔

تفتان میں پاکستانی کسٹم حکام نے تصدیق کی ہے کہ ان کے دفاتر کھلے ہیں اور کاروباری سرگرمیاں آسانی سے چل رہی ہیں۔

ابھی حال ہی میں 100 ٹرک مختلف اشیائے خوردونوش اور سامان لے کر تفتان بارڈر عبور کر کے ایران پہنچے جبکہ ایل پی جی اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات ایران سے پاکستان بھیجی گئیں۔

آپریشن مارگ بر سرمچار کیا ہے اور اس میں کن لوگوں کو نشانہ بنایا گیا

پنجگور کے ڈپٹی کمشنر ممتاز کھیتران نے بتایا کہ چدگی بارڈر کے ذریعے بھی ایران کے ساتھ تجارت جاری ہے۔  تاہم یہ بات قابل غور ہے کہ بلوچستان کے علاقے پنجگور میں ایرانی حملے کے بعد پاکستان نے ایرانی بندرگاہ چابہار سے 34 رکنی وفد کو واپس بلا لیا تھا۔

وفد میں کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر فدا حسین دشتی بھی شامل تھے جنہوں نے بتایا کہ ایرانی حکام نے پہلے کی طرح ان کا استقبال نہیں کیا۔

مزید برآں، کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عبداللہ اچکزئی سمیت وفد کے پانچ ارکان کو خفیہ ایجنسیوں کی منفی رپورٹس کے باعث ایران میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔  تاہم وفد کے دیگر ارکان کے احتجاج اور جوائنٹ بارڈر کمیٹی کے اجلاس میں شرکت سے انکار کے بعد بالآخر ایرانی حکام نے انہیں شرکت کی اجازت دی۔

فدا حسین دشتی نے مزید کہا کہ پاکستانی وفد کے 34 ارکان میں سے صرف 9 ہوٹل کے کمرے محفوظ تھے۔  چابہار میں دوستوں کے تعاون سے باقی افراد کے لیے اضافی رہائش کا انتظام کیا گیا۔

جانیے پاکستان اور ایران کے درمیان کشیدگی پر عالمی برادری کا رد عمل

مزید برآں، فدا حسین دشتی نے کہا کہ ایرانی حملوں کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کی راہ میں رکاوٹ ہے۔