2018 کے انتخابات کے مقابلے میں 2024 کے انتخابات میں کتنے ہزار ذیادہ امیدوار حصہ لے رہے ہے

2024 کے انتخابات
فوٹو بشکریہ گوگل امیجز

2018 کے انتخابات کے مقابلے میں 2024 کے انتخابات میں کتنے ہزار ذیادہ امیدوار حصہ لے رہے ہے

 

2024 کے انتخابات
فوٹو بشکریہ گوگل امیجز

 

8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات نے پاکستان میں حصہ لینے والے امیدواروں کی تعداد کے لحاظ سے ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔

پلڈاٹ پاکستان کے مطابق 2018 میں قومی اسمبلی کی جنرل نشستوں کے لیے 5651 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے تاہم حالیہ انتخابات کے لیے یہ تعداد بڑھ کر 7713 امیدواروں تک پہنچ گئی۔  اس کا مطلب ہے کہ امیدواروں کی تعداد میں 36 فیصد یا ایک تہائی سے زیادہ کا نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا یہ رجحان صوبائی اسمبلیوں میں بھی واضح ہے۔  2018 میں چاروں صوبائی اسمبلیوں کے لیے 13,782 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے۔  حالیہ انتخابات میں یہ تعداد بڑھ کر 18,506 امیدواروں تک پہنچ گئی۔  یہ صوبائی اسمبلیوں کے امیدواروں کی تعداد میں 29 فیصد اضافے کی نمائندگی کرتا ہے۔

قومی اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستوں کی بات کی جائے تو کاغذات نامزدگی جمع کرانے والی خواتین کی تعداد میں 14 فیصد اضافہ ہوا ہے۔  تاہم صوبائی اسمبلیوں میں یہ رجحان دیکھنے میں نہیں آیا۔  2018 اور حالیہ انتخابات دونوں میں فی سیٹ 10 خواتین امیدوار تھیں۔

اب، خواتین امیدواروں کی تعداد پر توجہ مرکوز کریں۔  قومی اسمبلی کی جنرل نشستوں کے لیے کل 471 خواتین امیدوار ہیں۔  ان میں سے 26 کا تعلق اسلام آباد سے، 39 کا خیبرپختونخوا، 277 کا پنجاب، 110 کا سندھ، اور 19 کا بلوچستان سے۔

پنجاب اسمبلی میں 437 خواتین، سندھ سے 205، خیبرپختونخوا سے 115 اور بلوچستان سے 45 نشستیں ہیں۔  قومی اسمبلی میں خواتین کے لیے 60 مخصوص نشستیں ہیں اور ان نشستوں کے لیے کل 459 خواتین نے کاغذات جمع کرائے ہیں۔  مزید برآں، چاروں صوبائی اسمبلیوں میں خواتین کی مخصوص نشستوں پر 1365 خواتین امیدوار میدان میں ہیں۔  ایک اور قابل ذکر حقیقت یہ ہے کہ قومی اسمبلی میں اقلیتوں کے لیے 10 مخصوص نشستیں ہیں، جن میں 150 اقلیتی نمائندے جن میں 10 خواتین بھی شامل ہیں، انتخابی عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں۔