نگران حکومت کا فری لانسرز کے لیے انقلابی اقدام

فری لانسرز
فوٹو بشکریہ گوگل امیجز

نگران حکومت کا فری لانسرز کے لیے انقلابی اقدام

 

فری لانسرز
فوٹو بشکریہ گوگل امیجز

 

نگراں وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر عمر سیف نے حال ہی میں پاکستان بھر میں فری لانسرز کے لیے 10,000 ای ایمپلائمنٹ سینٹرز کے قیام کے حوالے سے ایک اعلان کیا ہے۔  سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر پر شیئر کیے گئے ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اقدام فری لانسرز کو سالانہ 10 بلین ڈالر کمانے کے قابل بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ڈاکٹر عمر سیف نے روشنی ڈالی کہ پاکستان میں اس وقت تقریباً 1.5 ملین آن لائن فری لانسرز ہیں، جو اسے دنیا میں آن لائن فری لانسرز کی دوسری بڑی افرادی قوت بناتا ہے۔  تاہم، انہوں نے تسلیم کیا کہ ان فری لانسرز کو بار بار بجلی کی بندش اور ملک کے اندر مناسب کام کی جگہوں کی کمی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔

ان مسائل کو حل کرنے کے لیے حکومت 10,000 ای ایمپلائمنٹ مراکز قائم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔  اس کی سہولت کے لیے، نجی شعبے کو بلا سود قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں، جس سے وہ اپنی رئیل اسٹیٹ کو کام کرنے کی جگہوں یا ای ایمپلائمنٹ سینٹرز میں تبدیل کر سکیں گے۔  یہ مراکز جدید سہولیات سے آراستہ ہوں گے، فری لانسرز کو کام کرنے اور کمانے کے لیے سازگار ماحول فراہم کریں گے۔

ڈاکٹر عمر سیف نے مزید وضاحت کی کہ اگر ہر سینٹر میں 100 فری لانسرز کو جگہ دی جائے تو 10,000 سینٹرز کے قیام سے 10 لاکھ فری لانسرز روزی کمانے کے قابل ہوں گے۔  اس کے نتیجے میں پاکستان کی معیشت میں سالانہ 10 بلین ڈالر کا حصہ ڈالنے کی صلاحیت ہے۔

یہ اعلان پاکستان سٹارٹ اپ فنڈ (PSF) کے آغاز کے فوراً بعد سامنے آیا ہے، ایک ایسا اقدام جس کے ذریعے حکومت پاکستانی سٹارٹ اپس میں ہر سال 2 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرے گی۔  PSF کا مقصد اسٹارٹ اپس کو ایکویٹی سے پاک سرمایہ فراہم کرنا، وینچر کیپیٹلسٹ (VC) فنڈنگ ​​کو محفوظ بنانے اور ان کی پہلی بیرونی سرمایہ کاری بڑھانے میں ان کی مدد کرنا ہے۔