غصے کے سانپ کو قابو میں رکھے۔۔۔ایک اصلاحی کہانی

غصے کے سانپ کو قابو میں رکھے
فوٹو بشکریہ گوگل امیجز

غصے کے سانپ کو قابو میں رکھے۔۔۔ایک اصلاحی کہانی

 

غصے کے سانپ کو قابو میں رکھے
فوٹو بشکریہ گوگل امیجز

 

ایک بند دکان میں ایک سانپ انجانے میں گھس گیا تاہم، جب یہ دکان سے پھسل رہا تھا، تو یہ غلطی سے آری سے ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں اسے معمولی چوٹ آئی۔

گھبرا کر سانپ نے جوابی طور پر آرے پر پوری طاقت سے وار کیا جس سے اس کے اپنے منہ سے خون بہنے لگا۔  بدلہ لینے کی گمراہ کن کوشش میں، سانپ آری کو جکڑ کر اور دم گھونٹ کر مارنے کی پوری کوشش کرنے لگا۔اس کوشش میں بچارہ خود بری طرح زخمی ہو گیا۔

اگلے دن جب دکاندار نے دکان کا تالا کھولا تو اسے آرے کے گرد ایک بے جان سانپ ملا۔  سانپ بغیر کسی معقول وجہ کے اپنے ہی غصے کا شکار ہو گیا تھا۔  یہ ایک احساس تھا کہ غصے میں ہم اکثر دوسروں کے مقابلے میں خود کو زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں۔

مسلمان کافر ہے۔ تقسیم ہند سے پہلے کی کہانی

زندگی میں بعض اوقات بعض چیزوں، بعض افراد اور بعض حالات کو نظر انداز کرنا ضروری ہوتا ہے۔  ذہانت سے نظر انداز کرنے کی صلاحیت کو فروغ دینا ضروری ہے، کیونکہ ہر عمل ردعمل کی ضمانت نہیں دیتا۔  ہمارے کچھ ردعمل نہ صرف نقصان پہنچا سکتے ہیں بلکہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔

حقیقی طاقت برداشت میں ہے، اور صبر ایک ایسی خوبی ہے جو ہمیں دوسروں کے اثر و رسوخ یا فیصلے کے سامنے جھکنے سے روکتی ہے۔

سالی آدھی گھر والی۔معاشرتی اصلاحی کہانی