چشمِ بینا……..عبدالصمد بھٹی

چشمِ بینا
فوٹو بشکریہ گوگل امیجز

چشمِ بینا……..عبدالصمد بھٹی

 

چشمِ بینا
فوٹو بشکریہ گوگل امیجز

اللہ تعالیٰ نے انسان کو احسن تقویم کے پیمانے میں ڈھال کر بنایا ہے۔ انسان کی پوری ساخت میں اس کا چہرہ حسن و جمال کا مرقع قرار پایا ہے۔ چہرے کی بنت اور ترتیب میں ایک خاص ترکیب کا اہتمام کیا گیا۔ اسی چہرے پر دو آنکھیں سجائی گئی ہیں جن سے انسان مظاہر قدرت کو دیکھتا ہے۔ آنکھیں انسانی جسم کا بظاہر چھوٹا اور کمزور لیکن انتہائی اہم حصہ ہیں۔   آنکھیں انسانی وجود کا نازک اور کمزور حصہ بھی ہیں اور مضبوط و توانا بھی۔ کمزور اور نازک ایسی کہ پلکوں کا بال تک برداشت نہیں کر سکتیں اور مضبوط اتنی کہ کہیں ظلم و ستم دیکھ کر بھی ٹس سے مس نہیں ہوتیں۔انسان اپنی آنکھوں کی حد درجہ حفاظت کرتا ہے۔ نظر کمزور ہو جائے تو علاج معالجے کے ساتھ عینک کا استعمال بھی کرتا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خواب تو نابینا بھی دیکھتے ہیں اور اس کو بیان بھی کرتے ہیں جب کہ ان کے پاس آنکھیں نہیں ہوتیں تو وہ خواب کیسے دیکھ سکتے ہیں؟اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہم سورہ یوسف کو دیکھتے ہیں۔ یوسف علیہ السلام ایک اندھے کنوئیں سے ہوتے ہوئے ایک تاریک قید تک پہنچتے ہیں۔ ایک لمبا عرصہ دنیا اور اس کی رنگینیوں سے محروم رہتے ہیں لیکن اس کے باوجود مروجہ علوم میں سب سے زیادہ دسترس رکھنے والے انسان ہوتے ہیں اور بالآخر حاکم وقت کی مشکل دور کرتے ہوئے سلطنت کی مسند پر متمکن ہوتے ہیں۔

اسی قصہ یوسف علیہ السلام میں ہم چشم یعقوب اور دل یعقوب کی مختلف حالتوں کا ذکر بھی پڑھتے ہیں۔ جب یوسف علیہ السلام کو کنوئیں میں ڈالا جاتا ہے تو یعقوب علیہ السلام ان کی زندگی کے امکان سے مایوس نہیں ہوتے۔ بعد میں یوسف، عزیز مصر کی حیثیت سے اپنی قمیض بھجواتے ہیں تو یعقوب علیہ السلام قمیص کے پہنچنے سے پہلے ہی عزیز از جان بیٹے کی خوشبو کو محسوس کر کے شاداں و فرحاں ہو ہو جاتے ہیں۔

اہل علم اس کو دل کی بینائی، بصیرت، چشم بینا جیسے کئی عنوانات سے معنون کرتے ہیں۔ یہ چشم بینا طائف کی وادی میں لہو لہان رحمت للعالمین  صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا میں نظر آتی ہے۔ یہی چشم بینا نواسہ رسول علیہ السلام کو عطا کی جاتی ہے جس سے وہ بدلتے منظر بلکہ بدلتی بساط کو محسوس کر کے اپنی اور اپنے خانوادے کی قربانی پیش کرتے ہوئے ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتے ہیں۔یہ چشم بینا ان عظیم ہستیوں کو ودیعت کی جاتی ہے جو اپنے بل پر دریا کی موجوں کی مخالف سمت میں تیرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ ذرا سی مشکل آنے پر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لینے والے اس نعمت اور اس سرفرازی سے محروم رہتے ہیں۔ یہ نعمت ان پاک باز ہستیوں کا مقدر ٹھہرتی ہے جو اللہ رب العالمین کے آگے یوں سجدہ ریز ہوتے ہیں کہ اس کے سوا کسی کی حاکمیت کا خیال تو دُور، اس کی کسی ایک صفت جیسا ہونے کا خیال بھی دل میں نہیں لاتے۔ تیسری آنکھ رکھنے والے صاحبان بصیرت طوفان کے آنے سے پہلے اس کا تعین کر لیتے ہیں اور پھر اس کی پیش بندی کرتے ہیں۔ اگر ہم تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو ہمیں بےشمار صاحبان بصیرت نظر آتے ہیں۔

مسلمان کافر ہے۔ تقسیم ہند سے پہلے کی کہانی

یہ بصیرت، یہ چشم بینا، یہ دل کی بینائی ہی دراصل وہت یسری آنکھ ہے جس کے ذریعے سے انسان اس دنیا  کو دیکھتا ہے جو چہرے پر سجی دو آنکھوں سے اوجھل رہتی ہے۔ تیسری آنکھ کی بینائی کیسے حاصل ہوتی ہے؟ اس سوال کا جواب اللہ رب العالمین نے سورہ نوح میں دے دیا ہے۔سورہ نوح کی آیت نمبر 10 سے حضرت نوح علیہ السلام کی تقریر کا وہ حصہ جس میں وہ استغفار کی برکات کا ذکر کرتے ہیں، وہاں اللہ کی نعمتوں کا تواتر کے ساتھ ذکر ہے کہ  تم راہ راست پر آجاؤ  تو وہ تمہیں اپنی نعمتوں سے مالا مال کر دےگا۔

چشم بینا اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ جہاں یہ اللہ کے برگزیدہ بندوں کو ان کی ایمانی کیفیت کی بدولت عطا کی جاتی ہے  وہیں ہم دیکھتے ہیں کہ ہم سے اکثر لوگوں کو آنے والے حالات و و اقعات کی جھلک بھی کسی دھندلے منظر کی طرح دکھائی دیتی ہے۔ بعد ازاں وقوعہ رونما ہونے کی صورت میں ہمیں پتا چلتا ہے کہ یہ تو ہم دیکھ چکے ہیں۔ اگر ہم اللہ پر اپنے یقین کو کاملیت تک لے جائیں، اس کے بندوں کے ساتھ اپنے معاملات درست کر لیں تو کچھ شک نہیں کہ ہمیں بھی چشم بینا عطا ہو۔ علامہ اقبال نے اس بندہ مومن کی اپنے الفاظ میں کچھ یوں  تشریح کی ہے:

اس کا مقامِ بلند، اس کا خیالِ عظیم
اس کا سُرور اس کا شوق، اس کا نیاز اس کا ناز

ہاتھ ہے اللہ کا بندۂ مومن کا ہاتھ
غالب و کار آفریں، کارکُشا، کارساز

خاکی و نوری نہاد، بندۂ مولا صفات
ہر دو جہاں سے غنی اس کا دلِ بے نیاز

اس کی اُمیدیں قلیل، اس کے مقاصد جلیل
اس کی ادا دل فریب، اس کی نِگہ دل نواز

نرم دمِ گُفتگو، گرم دمِ جُستجو
رزم ہو یا بزم ہو، پاک دل و پاک باز

نُقطۂ پرکارِ حق، مردِ خدا کا یقیں
اور یہ عالم تمام وہم و طلسم و مجاز