بلوچستان میں ایرانی میزائل حملے کے بعد پاکستان کا جوابی حملہ 10 سے زائد دہشتگرد ہلاک

بلوچستان میں ایرانی میزائل حملے
فوٹو بشکریہ گوگل امیجز

بلوچستان میں ایرانی میزائل حملے کے بعد پاکستان کا جوابی حملہ 10 سے زائد دہشتگرد ہلاک

 

بلوچستان میں ایرانی میزائل حملے
فوٹو بشکریہ گوگل امیجز

 

بلوچستان میں ایرانی میزائل حملے کے بعد پاکستان اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی۔  گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس کے دوران دفتر خارجہ کی ترجمان زہرہ بلوچ نے ایران کو خبردار کیا کہ وہ جواب کے لیے تیار رہے۔  اس صورتحال کے جواب میں پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا اور ایرانی سفیر کو واپس نہ آنے کا پیغام بھیجا تھا۔  مزید برآں، اسلام آباد میں ایرانی وزیر امور خارجہ کے دفتر خارجہ کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے ایران کی جانب سے اپنی فضائی حدود کی بلا اشتعال خلاف ورزی پر پاکستان کی شدید مذمت کا اظہار کیا۔  اس خلاف ورزی کے نتیجے میں دو معصوم بچے جاں بحق اور تین بچیاں زخمی ہوئیں۔  پاکستان اپنی خودمختاری کی اس خلاف ورزی کو مکمل طور پر ناقابل قبول سمجھتا ہے۔

ایران کے میزائل حملے پر چین، ن لیگ، پی ٹی آئی, پیپلز پارٹی اور صحافیوں کا ردعمل آ گیا

ترجمان نے زور دے کر کہا کہ اس فعل کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔  یہ بات قابل غور ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان متعدد مواصلاتی چینلز کی موجودگی کے باوجود ایسا غیر قانونی عمل ہوا۔

غور طلب ہے کہ ایران نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں کالعدم جیش العدل کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔  جواب میں، پاکستان نے ایران میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر دوسرا حملہ کیا، جس میں دو کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا۔

ذرائع کے مطابق پاکستان نے ایران کی فضائی حدود کی خلاف ورزی اور پنجگور میں میزائل حملے کا جواب دیتے ہوئے ایران میں بی ایل اے اور بی ایل ایف کے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر میزائل داغے۔  اگرچہ اس حملے کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے، لیکن رپورٹس بتاتی ہیں کہ پاکستان نے BLF اور BLA سے تعلق رکھنے والے دو کیمپوں کو نشانہ بنایا۔  جوابی حملے سے قبل پاکستان کے وزیر خارجہ جلیل لباس جیلانی نے اپنے ایرانی ہم منصب کو آگاہ کیا کہ پاکستان جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

اگرچہ ایران کے خلاف جوابی کارروائی کے حوالے سے آئی ایس پی آر یا حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم اسلام آباد میں صحافیوں کو سرکاری حکام نے حملے کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔

پاکستان نے میزائل اور ڈرون دونوں کا استعمال کرتے ہوئے پاک ایران سرحد کے قریب سرحدی کیمپوں پر فوجی حملہ کیا۔  حیرت کی بات یہ ہے کہ ایرانی حکومت اور سرکاری میڈیا اس واقعے پر خاموش رہا۔  تاہم، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر، یہ دعوے گردش کر رہے ہیں کہ سرحدی کیمپوں، خاص طور پر سروان شہر میں حملے کا ذمہ دار پاکستان تھا۔

پنجگور میں میزائل حملے کے بعد پاکستان نے ایران سے اپنا سفیر اور چابہار سے اپنا وفد واپس بلا لیا

ایرانی سوشل میڈیا صارفین کے مطابق حملے کے نتیجے میں بدقسمتی سے 10 جانیں ضائع ہوئیں۔  اگرچہ اس واقعے کے بعد کی تصویر کشی کرنے والی کئی ویڈیوز اور تصاویر آن لائن شیئر کی گئی ہیں، لیکن ان کی صداقت ابھی تک غیر تصدیق شدہ ہے۔  مزید برآں، سوشل میڈیا پر کچھ افراد نے ایران میں زلزلے کے بعد کی تصویر اور پاکستان کے حالیہ میزائل حملے کے درمیان تعلق پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔