سسرال

سسرال
فوٹو بشکریہ گوگل امیجز

سسرال

 

سسرال
فوٹو بشکریہ گوگل امیجز

 

سسرال جہاں ایک لڑکی شادی کر کے جاتی ہے آنکھوں میں کئی خواب لیے دل میں ارمان سجائے ہوئے ایک ہمسفر کے ساتھ خوشگوار زندگی گزارنے کی خواہش لیے۔

دکھ سکھ کا ساتھی سمجھتے ہوئے اس گھر میں جاتی ہے اسے اپنا گھر سمجھتے ہوئے گھر کے آنگن میں جب قدم رکھتی ہے اسے اپنا اصل گھر سمجھتی ہے ۔تب اس کے کیے ماں باپ کا گھر پرایا ہو جاتا ہے۔لیکن دونوں اس کے گھر نہیں ہوتے ۔کبھی ادھر ادھر بھٹکتی رہتی ہے۔

ماں باپ کہتے ہیں ہم نے اپنا فرض نبھا دیا اب ادھر نہ آنا اب ادھر گزارہ کروں ادھر سے تمھارا جنازہ نکلے واقعی کچھ زندہ جنازے ہی ہوتے ہیں۔

ہمارا معاشرہ اور یتم بچے

سسرالیوں کی سب سے زیادہ نظر جہینز پہ ہوتی ہے ۔کتنا جہینز لائے گی۔جس کا جتنا زیادہ جہیز ہوتا اس کی اتنی زیادہ عزت ہوتی ۔اگر کم جہیز لائے تو سسرال والے جینا حرام کر دیتے ہیں طعنوں سے مار دیتے ہیں۔

میری دوست تھی اس کی تین بہنیں تھی تینوں بہنوں کی یکے بعد دیگرے شادیاں ہوئیں، ان کا ایک بھائی کمانے والا تھا اپنی استطاعت سے بڑھ کر جہیز دیا ۔جس کا قرضہ اتارتے اتارتے کئ سال لگ گئے۔

اس کی ساس نے تیسرے دن سے ہی طعنے دینے شروع کر دیے کون سا ٹرک بھر کے لے آئی ہو۔اتنا سستا سامان ہے ہم نے تو حق مہر کے پیسے دیے تھے تم کیا لے کر آئی ہو سامان مجھے پسند نہیں میں تمھیں نہیں دوں گی میں سارے برتن توڑوں گی۔

اب وہ کیا کہے جس کے بھائی نے خون پسینے کی کمائی سے اس کے لیے جہیز بنا کر دیا انہیں کیسے پریشان کرے۔

سالی آدھی گھر والی۔معاشرتی اصلاحی کہانی

یہ کہانی ہر تیسرے گھر کی ہے لڑکیاں نہیں چاہتی ماں باپ کو پریشان کرے رات کو جب بستر میں جاتی ہے تو رو لیتی ہے۔حتی کہ پڑھے لکھے لوگ بھی پوچھتے کتنا سامان ہے، ہائے کتنا کم سامان دیا،بلکل اچھا نہیں نارمل سا ہے،بس سر سے اتارا ہے۔

یہ کوئی نہیں پوچھتا کتنا پڑھی ہے کہا پڑھی کیسی تربیت کی لوگ گھر بناتے کہتے بہو آئےگی سامان لائے گی ہم کیوں لے، کہتے ہیں آنے والی اپنے ساتھ اپنا نصیب لے کر آئے گی ۔مطلب جو جہیز لائے گی وہ اس کا نصیب استمعال سسرال والوں نے کرنا ہے۔

جہیز کی اسلام میں کوئی حیثیت نہیں، حق مہر اپنی حیثیت کے مطابق عورت کا حق ہے تاکہ عورت کو مفت کا مال نہ سمجھا جاۓ، جہیز بہت بڑی لعنت ہے کتنی جوان لڑکیاں جہینز نہ ہونے کی وجہ سے گھر میں بیٹھے بوڑھی ہو گئ، ہمیں اس کو روکنا ہو گا یہ کام ہمیں اپنے گھر سے شروع کرنا ہے تا کے اس لعنت کا خاتمہ ہوں۔