ہمارا معاشرہ اور یتم بچے

ہمارا معاشرہ اور یتم بچے
فوٹو بشکریہ گوگل امیجز

ہمارا معاشرہ اور یتم بچے

 

ہمارا معاشرہ اور یتم بچے
فوٹو بشکریہ گوگل امیجز

 

چلچلاتی دھوپ اور تیز گرمی میں باہر گھنٹی کی آواز گونجی۔  میں نے جلدی سے گیٹ کھولا تو وہاں ایک تیرہ یا چودہ سال کا نوجوان لڑکا نظر آیا جو سر پر رومال باندھے کھڑا تھا۔ کپڑے اینٹوں کے بُورے سے اٹے ہوے تھے لیکن شکل صورت سے کسی اچھے گھر کا لگ رھا تھا میں نے متجسس ہو کر پوچھا، "ہاں بیٹا…؟”

اس نے جواب دیا، "انکل، کیا مجھے ٹھنڈا پانی مل سکتا ہے؟”

میں نے پانی کا جگ لایا اور دیکھا کہ اس کے ساتھ ایک اور چھوٹا بچہ بھی تھا جو اس کا چھوٹا بھائی نکلا۔  میں نے ان دونوں کو پانی پلایا اور دریافت کیا کہ کیا تم پڑھے لکھے ہو؟

اس نے سر ہلایا اور کہا ہاں میں نے ساتویں جماعت تک پڑھا ہے…

سالی آدھی گھر والی۔معاشرتی اصلاحی کہانی

تجسس پیدا ہوا، میں نے پوچھا، "اور تم نے یہ محنتی کام کیسے کیا؟”

انہوں نے بتایا کہ ان کے والد کے انتقال کے بعد ان کی دادی نے انہیں گھر سے نکال دیا تھا اور ان کی خالہ اور چچا نے بھی انہیں گھر سے نکال دیا تھا۔  اب دونوں بھائی اپنی ماں اور چھوٹی بہن کی کفالت کے لیے انتھک محنت کر رہے تھے۔

اس کی باتوں نے مجھے بہت دکھ پہنچایا، اور پہلے کبھی کسی کو پیسے نہ دینے کے باوجود، میں اپنا پرس نکالنے اندر گیا۔  میں نے احتیاط سے پانچ سو کا نوٹ نکالا، جب میں کچھ سامان لے کر واپس آیا تو اسے دینے کا ارادہ کیا۔

میری حیرت کی بات یہ ہے کہ بچے نے رقم کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔  اس نے آہستگی سے کہا، "انکل، اگر میں یہ کام پیسوں کے لیے کرنا چاہتا تو میں آپ سے اجازت نہ لیتا، بہت پہلے شروع کر چکا ہوتا۔”  اس کے الفاظ نے میرے اندر ایک راگ جما دیا، اور میں نے التجا کی، "بیٹا، اپنی پڑھائی مت چھوڑو، کوئی اور نوکری تلاش کرو، اور میں تمہیں محکمہ میں، شاید روزانہ سبزی منڈی میں پوزیشن حاصل کرنے میں مدد کروں گا…؟”

اللہ کو کھانا کھلانا اللہ کو پانی پلانا۔ایک اصلاحی کہانی

اس نے سختی سے جواب دیا کہ کیا میں جو کچھ کر رہا ہوں اس میں کوئی شرم ہے؟

پھر، اس نے میری طرف غور سے دیکھا اور آگے بولا، "ہاں، آپ جن حالات میں رہ رہے ہیں ان پر شاید آپ کو شرم محسوس ہو، لیکن میں نہیں کرتا۔ آپ کی فکر کا شکریہ، انکل۔”  اس کے ساتھ ہی وہ مجھے الوداع کہہ کر چلا گیا۔

میں اس گہری حکمت سے حیران رہ گیا جو اس طرح کے ایک نوجوان ذہن سے نکلی تھی۔  میں مدد نہیں کر سکا لیکن شرمندگی کا احساس نہیں کر سکا، یہ محسوس کرتے ہوئے کہ اللّٰہ نے ہمیں اتنا اچھا مقام عطا کیا مگر ہم چھوٹے کاموں کو کرنے میں شرم محسوس کرتے ہیں اور ہمارا ناکارہ حکومتی نظام ایسے کتنے ھی یتم بچوں کو مزدوریاں کرنے اور سکول چھوڑنے پر مجبور کرتا ھے کہ وہ تعیلم چھوڑ کر اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کے لیے مزدوری کرنے پر مجبور ہو جاتے ہے۔