بلے کا نشان چھن جانے کے بعد الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے امیدواروں کو انتخابی نشان الاٹ کر دیئے

پی ٹی آئی
فوٹو بشکریہ گوگل امیجز

بلے کا نشان چھن جانے کے بعد الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے امیدواروں کو انتخابی نشان الاٹ کر دیئے

 

پی ٹی آئی
فوٹو بشکریہ گوگل امیجز

 

مظفر گڑھ میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 175 کے لیے پی ٹی آئی کے جمشید دستی کو ہارمونیم کا نشان جبکہ این اے 176 کے لیے ہوائی جہاز کا نشان تفویض کیا گیا ہے۔

ریٹرننگ افسر کے مطابق این اے 177 کے لیے پی ٹی آئی کے معظم خان جتوئی کو حقہ کا نشان، پی ٹی آئی کے داؤد خان جتوئی کو این اے 178 کے لیے کی چین کا نشان تفویض کیا گیا ہے۔

آر او کے مطابق صوابی کے حلقہ این اے 20 سے پی ٹی آئی کے شہرام ترکئی اور پی کے 49 سے رنگیز خان کو فاختہ کا نشان دیا گیا ہے۔

عاقب اللہ خان کو پی کے 50 کے لیے مور کا نشان اور عبدالکریم کو پی کے 51 کے لیے نشان نشان تفویض کیا گیا ہے۔

آرو کے مطابق صوبائی اسمبلی کی نشست پی کے 52 کے لیے فیصل ترکئی کو گھڑیال کا نشان، پی کے 53 سے مرتضیٰ ترکئی کو باؤل کا نشان جبکہ پی ٹی آئی کے محمد حسین ڈوگر کو قومی اسمبلی کے لیے کرکٹ اسٹیمپ کا نشان تفویض کیا گیا ہے۔  نشست این اے 132۔

پنجاب اسمبلی کی نشست پی پی 175 سے پی ٹی آئی کے سردار راشد طفیل کو بھی کرکٹ ٹکٹ کا نشان دیا گیا ہے، جب کہ این اے 108 سے پی ٹی آئی کے صاحبزادہ محبوب سلطان کو چارپائی کا نشان ہوگا۔

جھنگ سے پی ٹی آئی کے شیخ وقاص اکرم کو این اے 109 جبکہ صاحبزادہ امیر سلطان کو این اے 110 سے وکٹ کا نشان تفویض کیا گیا ہے۔

مہمند کے حلقہ این اے 26 سے پی ٹی آئی کے ساجد مہمند کو ہوائی جہاز کا نشان، این اے 8 سے پی ٹی آئی کے گل ظفر خان کو گھڑیال اور پی کے 21 کے لیے اجمل خان کو پریشر ککر کا نشان تفویض کیا گیا ہے۔

پی کے 22 سے گل داد خان کو پیچ کس کا نشان، این اے 19 سے اسد قیصر کو وہیل چیئر کا نشان اور این اے 6 سے محمد بشیر خان کو وکٹ کا نشان تفویض کیا گیا ہے، تمام کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے۔

آر او کے مطابق لوئر دیر میں این اے 7 کے لیے پی ٹی آئی کے سید محبوب شاہ کو وال کلاک کا نشان، صاحبزادہ صبغت اللہ کو این اے 5 اور یامین خان کو پی کے 12 کے لیے شیشے کا نشان تفویض کیا گیا ہے۔  .

جھنگ  سے این اے 109 پر پی ٹی آئی کے شیخ وقاص اکرم کو چارپائی جبکہ این اے 110 سے صاحبزادہ امیر سلطان کو وکٹ کا انتخابی نشان الاٹ کیا گیا ہے۔

صوبائی اسمبلی کی نشست پی کے 4 پر علی شاہ خان کو خاصہ کا نشان، پی کے 5 پر اختر خان ایڈووکیٹ کو پریشر ککر اور پی کے 6 پر فضل حکیم کو پریشر ککر کا نشان دیا گیا ہے۔

ڈاکٹر امجد علی کو پی کے 7 پر توے (تبخی) کا نشان تفویض کیا گیا ہے جبکہ پی کے 8 پر حمیدالرحمن کو زبان کا نشان دیا گیا ہے۔

پی کے 9 پر سلطان رم کو سبز مرچ کا نشان دیا گیا ہے، اور پی کے 10 پر محمد نعیم کو فرائی پین کا نشان ملا ہے۔

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 11 شانگلہ سے سید فارین کو انتخابی نشان جہاز تفویض کیا گیا ہے جب کہ صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے 28 سے شوکت علی یوسفزئی کو انتخابی نشان ریکیٹ دیا گیا ہے۔

پی کے 30 سے ​​ایڈووکیٹ صدر رحمان کو گھڑیال کا نشان اور پی کے 29 سے عبدالمنیم کو انار کا نشان دیا گیا ہے۔

این اے 10 بونیر سے بیرسٹر گوہر علی خان کو چنک کا نشان، پی کے 26 سے ریاض خان کو گھڑیال، پی کے 28 سے کبیر خان کو ہینڈ پمپ کا نشان اور این اے 29 سے ارباب عامر ایوب کو انتخابی نشان الاٹ کیا گیا ہے۔  پیالے کی علامت

این اے 30 سے ​​شاندانہ گلزار کو پیالے کا نشان، شیر علی ارباب کو این اے 31 پر ٹریفک لائٹ کا نشان، این اے 31 سے آصف خان کو ہینڈ کار کا نشان اور پی کے 72 سے محمود جان کو گھڑیال کا نشان دیا گیا ہے۔  .

پی کے 73 سے علی زمان کو مور، پی کے 75 سے ملک شہاب کو پیالہ کا نشان، شیر علی آفریدی کو پی کے 77 سے گھڑیال کا نشان اور پی کے 82 سے کامران بنگش کو وائلن کا نشان دیا گیا ہے۔

ملتان کی 6 نشستوں پر پی ٹی آئی کے امیدواروں کو انتخابی نشانات تفویض کیے گئے ہیں۔

این اے 148 سے بیرسٹر تیمور ملک کو گھڑی کا نشان، این اے 149 سے ملک عامر ڈوگر کو بھی گھڑی کا نشان ملا ہے، این اے 150 سے زین حسین قریشی کو جوتے کا نشان دیا گیا ہے۔

عمران شوکت کو انتخابی نشان ٹنل اور این اے 153 میں ڈاکٹر ریاض لانگ کو انتخابی نشان کلاک الاٹ کیا گیا ہے۔

علاوہ ازیں میانوالی سے حلقہ این اے 90 پر پی ٹی آئی کے عمیر نیازی کو دروازے کا نشان الاٹ کیا گیا ہے۔