سپریم کورٹ نے پی ٹی ائی کو انتخابی دوڑ سے باہر کر دیا،بلے کا نشان واپس لے لیا

پی ٹی ائی
فوٹو بشکریہ گوگل امیجز

سپریم کورٹ نے پی ٹی ائی کو انتخابی دوڑ سے باہر کر دیا،بلے کا نشان واپس لے لیا

 

پی ٹی ائی
فوٹو بشکریہ گوگل امیجز

 

پاکستان کی سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے انٹرا پارٹی انتخابات کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو انتخابی نشان نہ دینے کے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

الیکشن کمیشن نے شفافیت کے فقدان کی وجہ سے پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دیا تھا۔  چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سمری فیصلہ سنایا، جس میں پی ٹی آئی کی جانب سے انٹرا پارٹی انتخابات کے انعقاد میں جمہوری اصولوں کو نظر انداز کرنے پر روشنی ڈالی۔

اس کے جواب میں الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 20 دن کے اندر انتخابات کرانے یا انتخابی نشانات سے محرومی کا سامنا کرنے پر زور دیا۔

پی ٹی آئی نے لاہور ہائی کورٹ میں پانچ رکنی بینچ کی تشکیل کی درخواست کی جو فی الحال زیر التوا ہے کیونکہ درخواست واپس نہیں لی گئی۔  دو روزہ سماعت کے بعد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے مختصر فیصلہ جاری کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کے موقف کو برقرار رکھتے ہوئے انتخابی نشان روکنے کے فیصلے کی توثیق کی۔  عدالت نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو بھی کالعدم قرار دے دیا۔