سپریم کورٹ نے سیاستدانوں کی تاحیات نااہلی کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

سپریم کورٹ
فوٹو بشکریہ گوگل امیجز

سپریم کورٹ نے سیاستدانوں کی تاحیات نااہلی کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

 

سپریم کورٹ
فوٹو بشکریہ گوگل امیجز

 

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تاحیات نااہلی کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ سیاستدانوں کو مستقل نااہل نہیں کیا جائے گا۔  یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے 7 رکنی بنچ نے 1-6 کے اکثریتی تناسب کے ساتھ سنایا۔  تاہم جسٹس یحییٰ آفریدی نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا۔

فیصلے کے بعد مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف اور آئی پی پی کے سربراہ جہانگیر ترین دونوں 8 فروری کو ہونے والے الیکشن میں حصہ لینے کے اہل ہو جائیں گے۔

کیس، جس میں سیاست دانوں کی تاحیات نااہلی کی مدت کے تعین پر توجہ مرکوز کی گئی تھی، اس کی حتمی سماعت جمعہ 5 جنوری کو ہوئی تھی۔ سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا اور اعلان کیا تھا کہ مختصر فیصلہ جلد سنایا جائے گا۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی 7 رکنی بینچ نے کی جس میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی شامل تھے۔  کیس کی کارروائی سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر براہ راست نشر کی گئی۔

سماعت کے دوران جہانگیر ترین کے وکیل مخدوم علی خان، اٹارنی جنرل اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وکیل شعیب شاہین کی جانب سے دلائل پیش کیے گئے۔

ایک موقع پر چیف جسٹس نے سمیع اللہ بلوچ کیس میں سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا۔  انہوں نے سوال کیا کہ جب خاکوانی کیس میں پہلے ایک لارجر بینچ نے اسی طرح کے معاملے پر فیصلہ دیا تھا تو پانچ رکنی بنچ فیصلہ کیسے کر سکتا ہے۔  چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کے ججوں کے فیصلوں کے احترام کی اہمیت پر زور دیا۔

خاکوانی کیس میں جسٹس آصف سعید کھوسہ کے لکھے گئے سخت نوٹ کے حوالے سے چیف جسٹس نے رضامندی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر کچھ نہیں کیا جا سکتا۔

11 دسمبر کو میر بادشاہ خان قیصرانی نااہلی کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے اہم آبزرویشن دی تھی۔  انہوں نے کہا کہ تاحیات نااہلی سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے اور الیکشن ایکٹ میں ترامیم میں مصالحت نہیں ہو سکتی۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس اطہر من اللہ نے بنچ تشکیل دیتے ہوئے تاحیات نااہلی کی مدت کے تعین کا معاملہ ججز کمیٹی کو بھجوا دیا۔  انہوں نے مزید اعلان کیا کہ اس کیس کی اگلی سماعت جنوری 2024 میں ہوگی۔

یہ امر اہم ہے کہ وکلاء کا موقف ہے کہ اگر 621 ون ایف کے بجائے الیکشن ایکٹ کے تحت نااہلی کا اعلان کیا جاتا ہے تو نواز شریف اور جہانگیر ترین دونوں انتخابات میں حصہ لینے کے اہل ہو جائیں گے۔

قانونی ماہرین کے مطابق آئین کے آرٹیکل 62 میں نااہلی کی مدت کا واضح طور پر ذکر نہیں ہے۔  تاہم ماضی میں سپریم کورٹ اسے تاحیات نااہلی سے تعبیر کر چکی ہے۔