لگتا ہے سارے احکامات ایک جگہ لکھیں گئے ہیں پھر انہیں آگے تقسیم کیا گیا ہے۔ریٹرننگ افسران کی جانب سے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے احکامات پر الیکشن ٹربیونل کا ردعمل

ریٹرننگ افسران
فوٹو بشکریہ گوگل امیجز

لگتا ہے سارے احکامات ایک جگہ لکھیں گئے ہیں پھر انہیں آگے تقسیم کیا گیا ہے۔ریٹرننگ افسران کی جانب سے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے احکامات پر الیکشن ٹربیونل کا ردعمل

 

ریٹرننگ افسران
فوٹو بشکریہ گوگل امیجز

 

اسلام آباد ہائی کورٹ میں الیکشن ٹربیونل نے پی ٹی آئی کے وکیل شعیب شاہین کی اپیل پر سماعت کی۔  کارروائی کے دوران، جج نے ریٹرننگ افسران (آر اوز) کی طرف سے جاری کردہ احکامات کی یکسانیت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ وہ ایک جگہ لکھے گئے ہوں اور پھر سب کو تقسیم کیے گئے ہوں۔

اسلام آباد کے حلقہ این اے 46، 47 اور 48 سے شعیب شاہین کے کاغذات نامزدگی ریٹرننگ افسر نے مسترد کر دیے۔  جواب میں شعیب شاہین نے اسلام آباد الیکشن ٹربیونل میں اپیل دائر کی۔

سماعت کے دوران عدالت نے الیکشن کمیشن کی نمائندگی کرنے والے وکیل سے پوچھا کہ کیا وہ موصول ہونے والے نوٹسز کے جواب میں ضروری ریکارڈ لے کر آئے ہیں۔  الیکشن کمیشن کے وکیل نے بتایا کہ ان کی درخواست پر جمعہ کو غور کیا جائے گا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا دونوں حلقوں این اے 47 اور این اے 48 کا ایک ہی ریٹرننگ افسر ذمہ دار ہے؟شعیب شاہین نے واضح کیا کہ دونوں حلقوں کے ریٹرننگ افسران مختلف ہیں تاہم احکامات کا مواد ایک جیسا ہے۔

جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ دونوں آر اوز کی جانب سے جاری کیے گئے احکامات کے الفاظ میں کوئی واضح فرق نہیں ہے، یہ تجویز کیا گیا ہے کہ انہیں ایک جگہ پر ڈرافٹ کیا گیا اور پھر نقل کیا گیا ہے۔

عدالت نے مزید پوچھا کہ کیا آر او آرٹیکل 62 ایف کے تحت ڈیکلریشن دے سکتا ہے؟ شعیب شاہین نے جواب دیا کہ آر او کے پاس ایسا اختیار نہیں، صرف عدالت ہی ڈیکلریشن دے سکتی ہے۔

اسلام آباد الیکشن ٹربیونل نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔