دونوں حلقوں سے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر شیخ رشید کا بیان آ گیا

شیخ رشید
فوٹو بشکریہ گوگل امیجز

دونوں حلقوں سے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر شیخ رشید کا بیان آ گیا

 

شیخ رشید
فوٹو بشکریہ گوگل امیجز

 

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کے قومی اسمبلی کے دونوں حلقوں سے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے گئے۔

شیخ رشید احمد نے راولپنڈی کے حلقہ این اے 57 اور 56 کے لیے عوامی مسلم لیگ کے ٹکٹ پر کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے۔  تاہم جانچ پڑتال مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ افسر نے ان کے کاغذات مسترد کر دیئے۔

حلقہ این اے 56 کے ریٹرننگ آفیسر نذر شاہ نے بتایا کہ شیخ رشید کے کاغذات نامزدگی پر اعتراضات درست تھے جس کے باعث ان کے کاغذات مسترد کیے گئے۔  اعتراضات شیخ رشید کے لینڈ فراڈ میں ملوث ہونے، ڈیفالٹر ہونے اور انکم ٹیکس گوشواروں میں غلط گوشوارے فراہم کرنے پر مبنی تھے۔

اس سے قبل حلقہ این اے 57 سے شیخ رشید اور شیخ راشد شفیق کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کیے گئے تھے۔

دونوں حلقوں سے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے ردعمل میں شیخ رشید احمد نے اظہار خیال کیا کہ ریٹرننگ آفیسر نے انہیں مختصر نوٹس پر کمشنر آفس بلایا۔  انہوں نے مری ریسٹ ہاؤس سے متعلق مبینہ مالی خدشات اور اراضی کے ٹائیٹل کا اعلان نہ کرنے پر اپنی رضامندی کا ذکر کیا۔  شیخ رشید نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی تمام اراضی ان کے نام رجسٹرڈ ہے اور فیصلہ ان کے حق میں ہونا چاہیے۔

شیخ رشید کا مزید کہنا تھا کہ ان پر ٹیکس چوری کا الزام ہے لیکن وہ ہمیشہ اپنے ٹیکس کے معاملے میں شفاف رہے ہیں۔  انہوں نے نااہلی قبول کر لی لیکن سوال کیا کہ وہ 94 ہزار کی کرپشن میں کیوں ملوث ہوں گے۔

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ نے اپنے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کی صورت میں اگلے دن اپیل دائر کرنے کے ارادے کا اعلان کیا۔  انہوں نے این اے 56 اور 57 میں کامیابی کو یقینی بناتے ہوئے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے انصاف کی امید ظاہر کی۔