جانیے عام انتخابات میں تحریک انصاف کے کن رہنماؤں کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے

تحریک انصاف
فوٹو بشکریہ گوگل امیجز

جانیے عام انتخابات میں تحریک انصاف کے کن رہنماؤں کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے

 

تحریک انصاف
فوٹو بشکریہ گوگل امیجز

 

عام انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا عمل اختتام پذیر ہوگیا۔

سابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سمیت تحریک انصاف کے اہم پارٹی رہنماؤں کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے گئے۔

ملتان میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 151 اور تھرپارکر میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 214 کے لیے شاہ محمود قریشی کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے گئے۔

عمران خان اور بشریٰ بی بی کے پاس کتنے اثاثے ہیں تفصیلات منظر عام پر آ گئی

این اے 151 سے شاہ محمود قریشی کے بیٹے زین قریشی اور بیٹی مہر بانو قریشی کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کر دیے گئے۔  تاہم این اے 149 کے لیے جاوید ہاشمی، جہانگیر ترین اور عامر ڈوگر کے کاغذات منظور کر لیے گئے، مانسہرہ کے حلقہ این اے 15 سے اعظم خان سواتی کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے گئے۔

مزید برآں اٹک این اے 50 سے زلفی بخاری، ڈیرہ اسماعیل خان سے علی امین گنڈا پور اور مردان تخت بھائی این اے 22 سے علی محمد خان کے کاغذات مسترد کر دیے گئے۔

مردان میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 23 سے سابق وفاقی وزیر علی محمد خان کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے گئے۔  مردان میں پی کے 60 سے تحریک انصاف کے امیدوار کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کر دیے گئے۔

مردان میں پی کے 55 سے تحریک انصاف کے امیدوار سابق ایم پی اے طفیل انجم اور پی کے 56 سے تحریک انصاف کے امیدوار سابق ایم پی اے امیر فرزند کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے گئے۔  پی کے 59 مردان سے سابق صوبائی وزیر عاطف خان کے کاغذات بھی مسترد کر دیے گئے۔

علاوہ ازیں وہاڑی سے سابق وزیر زرتاج گل اور پی ٹی آئی کے امیدوار طاہر اقبال چوہدری کے کاغذات مسترد کر دیے گئے۔  طاہر اقبال چوہدری کو محکمہ ریونیو کے نادہندہ ہونے اور بجلی کی چوری میں ملوث ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے خلاف سرکاری فنڈز کے مبینہ غلط استعمال کی وجہ سے اعتراضات کا سامنا کرنا پڑا۔  غبن کے حوالے سے اینٹی کرپشن کیس بھی جاری ہے۔

عبدالمجید خان نیازی، جو کہ 2018 میں ایم این اے منتخب ہوئے تھے، لیہہ کے حلقہ این اے 181 کے لیے ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے گئے تھے۔ ان کے کاغذات سے وابستہ تائید کنندگان اور سفارش کرنے والے ریٹنگ آفیسر کے سامنے پیش نہیں ہو سکے۔

اسی طرح این اے 87 سے ملک عمر اسلم اعوان اور ملک حسن اسلم اعوان کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کر دیے گئے۔  این اے 122 سے تحریک انصاف کے امیدوار خرم لطیف کھوسہ کے کاغذات بھی مسترد ہو گئے تھے جو انہوں نے جمع کرائے تھے۔

زلفی بخاری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں اس بات کا اظہار کیا کہ ان کے کاغذات نامزدگی ان کے دستخط میں مبینہ جعلسازی کی وجہ سے مسترد کیے گئے۔  انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ان کے وکلاء، سفارشی اور حامیوں کو اغوا کیا گیا ہے۔

علاوہ ازیں کوئٹہ کے حلقہ این اے 263 کے لیے سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کر دیے گئے۔