واپڈا افسران کے بجلی کے مفت یونٹس ختم کرنے پر پشاور ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ

بجلی کے مفت یونٹس
فوٹو بشکریہ گوگل امیجز

واپڈا افسران کے بجلی کے مفت یونٹس ختم کرنے پر پشاور ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ

 

بجلی کے مفت یونٹس
فوٹو بشکریہ گوگل امیجز

 

نگراں حکومت کی جانب سے پیسکو افسران کو بجلی کے مفت یونٹس کی فراہمی بند کرنے کے فیصلے کو پشاور ہائی کورٹ نے معطل کر دیا ہے۔

پشاور ہائی کورٹ میں جسٹس خورشید اقبال کی سربراہی میں سماعت ہوئی۔  پیسکو کے چھ افسران نے مفت بجلی کی فراہمی جاری رکھنے کے لیے رٹ دائر کی تھی۔

درخواست گزاروں کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پیسکو ملازمین کو ہمیشہ فراہم کیے جانے والے بجلی کے مفت یونٹس کی برطرفی 5 دسمبر کو بورڈ آف ڈائریکٹرز کی منظوری کے بغیر غیر قانونی اعلان کے ذریعے کی گئی۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ نگراں حکومت کے پاس مفت بجلی کے یونٹس ختم کرنے کا اختیار نہیں ہے اور ان کے اعلان کو معطل کرنے کے ساتھ ساتھ مفت بجلی کے یونٹس جاری رکھنے کا حکم دینے کی استدعا کی ہے۔

افسران کی درخواست پر عدالت نے وفاقی حکومت کی جانب سے مفت بجلی کے یونٹس ختم کرنے کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے وفاقی حکومت اور واپڈا سے جواب طلب کر لیا۔