جانیے پاکستانی سیاست کے بڑے بڑے برج کس حلقے سے اور کون کس کے مقابلے پہ الیکشن لڑے گا

imran khan, nawaz sharif, maryam nawaz, bilwal bhutto zardari
فوٹو بشکریہ گوگل امیجز

جانیے پاکستانی سیاست کے بڑے بڑے برج کس حلقے سے اور کون کس کے مقابلے پہ الیکشن لڑے گا

 

imran khan, nawaz sharif, maryam nawaz, bilwal bhutto zardari
فوٹو بشکریہ گوگل امیجز

 

پنجاب میں انتخابات میں حصہ لینے کے لیے امیدواروں کی جانب سے کاغذات نامزدگی وصول کرنے اور جمع کرانے کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں دلچسپ مقابلے سامنے آئے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور پی ٹی آئی کے بانی عمران خان جیسی اہم شخصیات نے کاغذات نامزدگی حاصل کر لیے ہیں۔

نواز شریف کے کاغذات نامزدگی حلقہ این اے 130 سے ​​مسلم لیگ (ن) کے سابق ایم این اے بلال یاسین نے جمع کرائے تھے۔ یاسین اسی نشست کے کورنگ امیدوار بھی ہیں۔

جانیے کس حلقے سے عمران خان کے کاغذات نامزدگی جمع ہو گے

نواز شریف کے بھائی شہباز شریف جو کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر ہیں، نے لاہور سے این اے 123 اور پنجاب اسمبلی کی نشستوں پی پی 158 اور پی پی 164 کے لیے کاغذات حاصل کر لیے ہیں۔  این اے 132 قصور کے لیے بھی کاغذات جمع کرائے گئے ہیں۔

لاہور کے حلقہ این اے 128 کے لیے بلاول بھٹو زرداری کے کاغذات جمع کرادیئے گئے ہیں جہاں مسلم لیگ ن کی جانب سے خواجہ احمد حسن اور جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ جیسے امیدوار بھی میدان میں ہیں۔

اگرچہ عمران خان کی الیکشن لڑنے کی اہلیت ابھی تک غیر یقینی ہے تاہم میانوالی کے حلقہ این اے 89 کے لیے ان کے کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے ہیں۔

پی ٹی آئی کی زیر حراست سوشل میڈیا ایکٹوسٹ صنم جاوید کے والد جاوید اقبال نے اعلان کیا ہے کہ ان کی صاحبزادی لاہور کے حلقہ پی پی 150 سے شہباز شریف اور مریم نواز کے مقابلے میں الیکشن لڑیں گی۔  جاوید اقبال نے اپنی بیٹی کی جانب سے این اے 123، پی پی 150، 158 اور 164 کے لیے کاغذات وصول کیے ہیں۔

دریں اثناء استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات خرم حمید روکھڑی نے این اے 89 کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرادیے، جہاں ان کا مقابلہ عمران خان سے ہوگا۔  اس حلقے سے پیپلز پارٹی کی جانب سے نواب امیر محمد خان اور مسلم لیگ (ن) کی جانب سے عبید اللہ شادی خیل بھی امیدوار ہیں۔

مزید برآں آئی پی پی کے صدر عبدالعلیم خان این اے 147 خانیوال سے الیکشن لڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور امکان ہے کہ وہ لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقے سے بھی الیکشن لڑیں گے۔

سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے این اے 52 جبکہ ان کے بیٹے خرم پرویز نے پی پی 8 گوجر خان سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔

سابق وزیراعلیٰ اور پی ٹی آئی کے صدر پرویز الٰہی این اے 69 منڈی بہاؤالدین سے الیکشن لڑیں گے، اور سابق وزیر دفاع خواجہ آصف این اے 71 سیالکوٹ سے امیدوار ہوں گے۔

سپریم کورٹ سے بڑے کیس میں ضمانت ملنے کے بعد کیا عمران خان کی رہائی ممکن ہے

دونوں امیدواروں نے پنجاب اسمبلی کی دو نشستوں پی پی 46 اور 47 کے لیے بھی کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔

جھنگ میں سابق وزیر داخلہ فیصل صالح حیات، سابق وفاقی وزیر صاحبزادہ محبوب سلطان اور غلام بی بی بھروانہ نے این اے 108 کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرادیے۔

این اے 109 میں انتخاب لڑنے والے امیدواروں میں غلام بی بی بھروانہ، امیر سلطان اور مولانا محمد احمد لدھیانوی شامل ہیں۔  اس کے علاوہ صاحبزادہ امیر سلطان سمیت 7 دیگر امیدوار این اے 110 میں مدمقابل ہوں گے۔

پیپلز پارٹی کے ندیم افضل چن نے قومی اسمبلی کی دو نشستوں این اے 82 اور این اے 86 کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں، دونوں سرگودھا میں واقع ہیں۔  مسلم لیگ ن کی نمائندگی کرنے والے عطاء اللہ تارڑ گوجرانوالہ کے حلقہ این اے 77 سے الیکشن لڑنے کے لیے پر امید ہیں۔

دوسری جانب سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کسی سیاسی پلیٹ فارم سے الیکشن میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ حلقوں کے دباؤ کے باعث شاہد خاقان عباسی کے صاحبزادے نادر اب آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن میں حصہ لیں گے اور مری کے حلقہ این اے 51 کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائیں گے۔