امریکہ نے 42 سال بعد افغان جہاد کے فیصلے کا راز فاش کر دیا

افغان جہاد
فوٹو بشکریہ گوگل امیجز

امریکہ نے 42 سال بعد افغان جہاد کے فیصلے کا راز فاش کر دیا

افغان جہاد
فوٹو بشکریہ گوگل امیجز

 

افغان جہاد کے بانی اور اس کے قیام کے وقت کا حال ہی میں امریکہ نے انکشاف کیا ہے۔  چار دہائیوں کے بعد، 1979 میں صدر جمی کارٹر کے اہم فیصلے کو ڈی کلاسیفائی کر کے پبلک کر دیا گیا ہے۔

واشنگٹن میں قائم نیشنل سیکیورٹی آرکائیو کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق صدر کارٹر نے سی آئی اے کی مالی معاونت سے چلنے والے ‘افغان جہاد’ کا آغاز پاکستان کے ذریعے کیا۔  امریکہ اور اسلامی ممالک دونوں نے افغان جہاد کی حمایت کے لیے مجموعی طور پر 2.2 بلین ڈالر کا تعاون کیا۔

یہ امر اہم ہے کہ افغانستان میں جنگ نو سال تک جاری رہی جو کہ دسمبر 1979 میں شروع ہوئی اور فروری 1989 میں اختتام پذیر ہوئی۔ اگرچہ ایسا لگتا ہے کہ افغان فوج صرف اور صرف روسی فوج کے خلاف لڑ رہی تھی، وہیں دنیا بھر کے مجاہدین بھی روس کے خلاف جنگ میں مصروف تھے۔  ۔

امریکہ اور روس کے درمیان سرد جنگ کی کشیدگی کے باعث امریکہ اس تنازع میں کھل کر مداخلت نہیں کر سکا۔  تاہم، امریکہ نے بڑی سمجھداری سے مجاہدین کو تربیت اور مدد فراہم کی۔  امریکہ سمیت متعدد ممالک نے روسی افواج کا مقابلہ کرنے کے لیے مجاہدین کو اربوں ڈالر کی مالی امداد کی پیشکش کی۔