چیف جسٹس برہم لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل، انتخابی شیڈول آج ہی جاری کرنے کا حکم دے دیا

انتخابی شیڈول
فوٹو بشکریہ گوگل امیجز

چیف جسٹس برہم لاہور ہائی کورٹ کا فیلصہ معطل، انتخابی شیڈول آج ہی جاری کرنے کا حکم دے دیا

انتخابی شیڈول
فوٹو بشکریہ گوگل امیجز

 

بیوروکریسی سے انتخابی عملے کی تعیناتی معطل کرنے کا لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دے دیا۔  جس کے جواب میں الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں لاہور ہائی کورٹ سے ریٹرننگ افسران (آر اوز) کی تعیناتی کی استدعا کی گئی ہے۔

ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسرز (DROs) سے متعلق درخواست پر کارروائی نہیں کی جائے گی۔  لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر بیوروکریسی سے آر اوز اور ڈی آر اوز کی تقرری سے متعلق الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن اس سے قبل معطل کر دیا گیا تھا۔

اس فیصلے سے سیاسی جماعتوں بشمول درخواست گزار پی ٹی آئی میں تشویش پیدا ہوگئی تھی کیونکہ اس سے آئندہ عام انتخابات میں تاخیر کا خدشہ تھا۔  پی ٹی آئی نے بیوروکریٹس کی بطور ڈی آر اوز اور آر اوز تقرری پر اعتراض کرتے ہوئے ان کی جگہ نچلی عدلیہ کے افسران کو تعینات کرنے کی وکالت کی تھی۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لاہور ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کی درخواست کے قابل قبول ہونے پر سوال اٹھایا اور درخواست دائر کرنے والے عمیر نیازی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرنے کا مشورہ دیا۔

الیکشن کمیشن کی درخواست پر سماعت آج شروع ہوئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔  سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے وکیل سوجیل سواتی نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ پیش کیا۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے استفسار کیا کہ اس وقت آپ کی موجودگی کی کیا ضرورت تھی؟  وکیل نے فوری جواب دیتے ہوئے کہا کہ 8 فروری کو انتخابات کرانے کے لیے درخواست ضروری ہے۔ آج مقررہ تاریخ سے 55 واں دن ہے۔

چیف جسٹس نے ایک فرضی منظر نامہ کھڑا کرتے ہوئے سوال کیا کہ اگر ان کی پرواز منسوخ کر دی گئی تو اس کے ممکنہ نتائج کیا ہوں گے۔  انہوں نے زور دے کر کہا کہ آئینی ذمہ داریوں کو پورا کرنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

وکیل کے دلائل کے دوران بتایا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کے آر اوز، ڈی آر اوز کی بیوروکریسی سے ملی بھگت کا فیصلہ معطل کر دیا تھا جس سے انتخابی عمل رک گیا تھا۔

وکیل نے مزید بتایا کہ ریٹرننگ افسران کی تقرری پی ٹی آئی کی درخواست پر منسوخ کی گئی تھی، حکومت نے نئی فہرست فراہم کی تھی۔

درخواست گزار کے مطالبات کے بارے میں پوچھے جانے پر وکیل نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ریٹرننگ افسران کا انتخاب عدلیہ سے کیا جائے۔

چیف جسٹس نے نشاندہی کی کہ ریٹرننگ افسران ہائی کورٹ کی مشاورت سے تعینات ہوتے ہیں۔  جواب میں وکیل نے اظہار خیال کیا کہ تمام ہائی کورٹس کو خط لکھنے کے باوجود انہیں افسران فراہم نہیں کیے گئے اور انہیں دوسرے اداروں کا سہارا لینا پڑا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ کیا آرٹیکل 218-3 میں ایسی کوئی شقیں ہیں جو منصفانہ انتخابات میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔

وکیل سوجیل سواتی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن ایکٹ کے سیکشن 50 اور 51 کو چیلنج کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے افسران کی تعیناتی کے اختیار کو کالعدم قرار دیا جائے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے ایک درست نکتہ اٹھایا، سوال کیا کہ اس خاص وقت پر اس شق کو کیوں چیلنج کیا جا رہا ہے۔

وکیل نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اس سے قبل فروری میں عدلیہ کو خط لکھا تھا جس میں عدالتی افسران سے درخواست کی گئی تھی۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا درخواست گزار ہائیکورٹ کے خط کے بعد انتخابات ملتوی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟  الیکشن کمیشن کے وکیل نے وضاحت کی کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے کوئی جواب نہیں دیا جب کہ پشاور ہائی کورٹ نے انہیں جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا۔

لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کیسے درست ہو سکتا ہے؟

چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود انتخابات میں تاخیر پر تحفظات کا اظہار کیا۔  لاہور ہائی کورٹ کی موجودہ صورتحال کیا ہے؟

جواب میں وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ہائی کورٹ میں پانچ رکنی لارجر بینچ پیر کو کیس کی سماعت کرے گا۔

چیف جسٹس نے بنچ کی سربراہی سے متعلق استفسار کیا تو وکیل نے انکشاف کیا کہ ابتدائی فیصلہ کرنے والے جج پانچ رکنی لارجر بینچ کی سربراہی کریں گے۔

چیف جسٹس نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ عجیب بات ہے کہ جس جج نے فیصلہ کیا وہ بھی لارجر بنچ کی سربراہی کرے۔  انہوں نے لارجر بنچ کی تشکیل میں جج کی مداخلت پر سوال اٹھایا۔

چیف جسٹس نے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرنے والے درخواست گزار سے مزید استفسار کیا اور عمیر نیازی کی شناخت پر سوال اٹھایا۔

وکیل نے واضح کیا کہ عمیر نیازی کے مطابق وہ پی ٹی آئی کے جنرل سیکرٹری ہیں۔  جسٹس منصور علی شاہ نے ایک فرد کی درخواست پر ملک بھر کے ریٹرننگ افسران کی معطلی پر تبصرہ کیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عمیر نیازی کی درخواست سپریم کورٹ کے حکم کی توہین ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ اگر الیکشن کمیشن کے افسران اور ڈپٹی کمشنرز ایسا کرنے میں ناکام رہے تو الیکشن کون کرائے گا۔  چیف جسٹس نے زور دے کر کہا کہ تمام ڈی آر اوز اپنے اپنے اضلاع کے ڈپٹی کمشنر ہیں، جوڈیشل افسران، الیکشن کمیشن یا ایگزیکٹو الیکشن نہیں کرائیں گے تو کون کرائے گا؟  انہوں نے تجویز پیش کی کہ اس کے پیچھے مقصد انتخابات کو ملتوی کرنا ہو سکتا ہے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے جج کا حکم سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہے جسے وہ بدتمیزی سمجھتے ہیں۔  اسے یہ عجیب لگا کہ ہائی کورٹ کا جج ایسا حکم جاری کرے گا۔

چیف جسٹس نے انتخابی شیڈول آج جاری کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

سماعت کے دوران جسٹس طارق مسعود نے ان افراد کی شناخت پر سوال اٹھایا جو الیکشن نہیں چاہتے اور عمل میں رکاوٹ ڈالتے ہیں۔  انہوں نے روشنی ڈالی کہ سپریم کورٹ نے انتخابات کو پٹڑی سے اترنے سے روکنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔

چیف جسٹس نے عدلیہ کی جانب سے ایسی ہدایات ملنے پر حیرت کا اظہار کیا۔  کیا پی ٹی آئی کا کوئی رکن کمرہ عدالت میں موجود ہے؟  اگر ایسا ہے تو انہوں نے Rovs کا مقابلہ کیوں کیا؟  حد ہو گئی، ابھی تک انتخابی شیڈول جاری نہیں ہوا۔  ہم سب کو طلب کرتے ہیں، مطالبہ کرتے ہیں کہ انتخابی شیڈول آج ہی جاری کیا جائے۔