آسٹریلیا نے بھی ویزا پالیسی تبدیل کر دی۔جانیے نئی پالیسی میں کون سی سخت شرائط شامل کی گئی ہیں

آسٹریلیا نے بھی ویزا پالیسی تبدیل
فوٹو بشکریہ گوگل امیجز

آسٹریلیا نے بھی ویزا پالیسی تبدیل کر دی۔جانیے نئی پالیسی میں کون سی سخت شرائط شامل کی گئی ہیں

آسٹریلیا نے بھی ویزا پالیسی تبدیل
فوٹو بشکریہ گوگل امیجز

 

آسٹریلیا نے بھی ویزا پالیسی تبدیل کرتے ہوے حال ہی میں ایک نئی دس سالہ ویزا کی حکمت عملی کی نقاب کشائی کی ہے جس کا مقصد اس کے امیگریشن نظام کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنا ہے۔

اس حکمت عملی کا مقصد جون 2025 تک ملک میں داخل ہونے والے غیر ملکیوں کی تعداد کو 2.5 ملین سالانہ تک کم کرنا ہے۔ اس اقدام سے عارضی ویزوں پر آسٹریلیا میں مقیم غیر ملکی طلباء پر نمایاں اثر پڑنے کا امکان ہے۔

اس وقت آسٹریلیا میں تقریباً ساڑھے چھ ملین غیر ملکی طلباء مقیم ہیں، جن میں سے اکثر اپنے ابتدائی سٹوڈنٹ ویزا کی میعاد ختم ہونے کے بعد بھی مقیم ہیں۔  نئی پالیسی میں بین الاقوامی طلباء اور کم ہنر مند کارکنوں کے لیے ویزا کے سخت ضابطے شامل ہوں گے۔

یہ بات اہم ہے کہ آسٹریلیا کو ہنر مند کارکنوں کی کمی کا سامنا ہے، اور انہیں ملک کی طرف راغب کرنے میں مسلسل چیلنجز درپیش ہیں۔  حکومت کی جانب سے اس نئی پالیسی کو نافذ کرنے کے فیصلے سے آسٹریلیا میں مقیم پاکستانی شہریوں کے لیے اس کے محرکات اور اثرات کے بارے میں سوالات اٹھتے ہیں۔

‘عارضی ہنر کی کمی’ ویزا کی جگہ ‘اسکلز ان ڈیمانڈ’ ویزا کسی خاص وجہ سے لے گا۔  نیا ویزا چار سال کی مدت کے لیے تین مختلف راستے پیش کرے گا۔  ان میں سے ایک راستہ ٹیکنالوجی اور توانائی کے شعبوں میں ‘ماہر مہارت’ رکھنے والے افراد کو نشانہ بنائے گا، جس کا مقصد انتہائی باصلاحیت افراد کو آسٹریلیا کی طرف راغب کرنا ہے۔

ایک اور راستہ ‘بنیادی مہارت’ پر توجہ مرکوز کرے گا، جہاں آسٹریلوی مارکیٹ میں طلب کی بنیاد پر علاقوں کی فہرست کو ایڈجسٹ کیا جائے گا۔  اس طریقہ کار سے ہنر مند افرادی قوت کی کمی کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔

تیسرا راستہ صحت کی دیکھ بھال جیسے شعبوں میں ‘ضروری مہارتوں’ کو ترجیح دے گا، جہاں کارکنوں کی کمی ہے۔  اس راستے سے متعلق مزید تفصیلات پر غور کیا جا رہا ہے۔

نئے ضوابط انگریزی زبان کے ٹیسٹ، خاص طور پر IELTS میں بین الاقوامی طلباء کے لیے سخت معیارات بھی قائم کرتے ہیں۔  پہلے گریجویٹ ویزا کے لیے IELTS میں 6 بینڈ ضروری تھا لیکن اب اسے بڑھا کر 6.5 کر دیا گیا ہے۔  اسی طرح سٹوڈنٹ ویزا کے لیے IELTS کی شرط 5.5 سے بڑھا کر 6 کر دی گئی ہے۔

مزید برآں، دوسری بار ویزا کے درخواست دہندگان کو اضافی سوالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔  انہیں یہ ظاہر کرنے کی ضرورت ہوگی کہ مزید مطالعہ ان کے کیریئر کی ترقی یا تعلیم میں کس طرح معاون ثابت ہوں گے۔

‘خصوصی’ یا ‘ضروری’ مہارتوں کے حامل تارکین وطن کے لیے ویزا کے طریقہ کار میں بھی اضافہ کیا گیا ہے، جس سے انہیں مستقل رہائش حاصل کرنے کا زیادہ موقع فراہم کیا گیا ہے۔

آسٹریلوی وزیر داخلہ کلیئر او نیل نے اس بات پر زور دیا کہ نئی پالیسی ملک کی ضروریات کو پورا کرتے ہوئے ہنر مند افراد کو آسٹریلیا آنے کے قابل بنائے گی۔  مزید برآں، اس کا مقصد آسٹریلیا میں پہلے سے مقیم، کام کرنے اور تعلیم حاصل کرنے والوں کے استحصال کو روکنا ہے۔

آسٹریلوی حکومت کی حکمت عملی، جو 99 صفحات پر مشتمل دستاویز میں بیان کی گئی ہے، بار بار ‘بیک ڈور’ کی اصطلاح کا ذکر کرتی ہے۔  اس سے مراد بعض جعلی کالجوں کی مشق ہے جو طلباء کو آسٹریلیا لاتے ہیں، صرف ان کی ڈگریوں کی کوئی قدر نہیں۔  حکومت اب مقامی اور قومی سطح پر اس مسئلے کو حل کرتے ہوئے ان فرضی کالجوں کے خلاف مشترکہ کریک ڈاؤن کا اشارہ دے رہی ہے۔

براہ کرم آگاہ رہیں کہ آسٹریلیا میں رہائش کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے کرائے کی سستی رہائش تلاش کرنا مشکل ہو گیا ہے۔  نتیجتاً، طلباء کو اکثر اپنے کام کی جگہ یا تعلیمی ادارے سے بہت دور رہنا پڑتا ہے۔