جنرل فیض حمید اور عمران خان نے دس سال کی منصوبہ بندی کی تھی۔علیم خان

فوٹو بشکریہ گوگل امیجز

جنرل فیض حمید اور عمران خان نے دس سال کی منصوبہ بندی کی تھی۔علیم خان

فوٹو بشکریہ گوگل امیجز

 

استحکام پاکستان پارٹی کے صدر اور سابق صوبائی وزیر علیم خان نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کی پی ٹی آئی کے موجودہ چیئرمین بیرسٹر گوہر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔  بیرسٹر گوہر نے 14 سال پیپلز پارٹی میں خدمات انجام دینے کے بعد پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی۔

پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد کے معاملے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ 9 مئی کے واقعات کے بعد ریڈ لائن کراس کی گئی جس سے پی ٹی آئی کے ساتھ شراکت ناممکن ہو گئی۔

عثمان بزدار کے حوالے سے سابق صوبائی وزیر نے دعویٰ کیا کہ ان کی تقرری میں کوئی دیانت یا میرٹ نہیں ہے۔  میں نے پی ٹی آئی کے سربراہ کو بزدار کی لوٹ مار کے بارے میں بارہا بتایا تھا، جب وہ کلین ہوئے تو نیب نے انہیں گرفتار کر لیا اور مجھ پر وہی الزامات لگائے گئے۔  جو پہلے بد نیتی سے لگائے گئے تھے۔

پی ٹی آئی کے سربراہ ساری دنیا کو قید کرنا چاہتے تھے۔ علیم خان ان کےساتھ جو ہو رہا ہے مکافات عمل ہے، پی ٹی آئی کے سربراہ کو کہا تھا رانا ثنا پرجھوٹا مقدمہ نہ بنائیں، کہاتھا رانا ثنا بھگت لے گا۔آپ کو تکلیف ہوگی۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ انہوں نے عثمان بزدار کی جگہ وزیراعلیٰ پنجاب بننے کو ترجیح دی تھی۔  پنجاب کا وزیراعلیٰ بننے کی خواہش میں کیا حرج تھا؟  کبھی شہباز شریف کا بیگ اٹھانے والے عثمان بزدار پی ٹی آئی کے وزیر اعلیٰ کے عہدے پر کیسے پہنچے؟

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے سربراہ کی تقرری میں فیض حمید ایک اہم عنصر تھے اور ان کے تمام فیصلے ان کی مرضی کے مطابق ہوتے تھے۔ جنرل فیض حمید اور عمران خان نے دس سال کی منصوبہ بندی کی تھی، اس دوران فیض حمید آرمی چیف بھی بننا چاہتے تھے۔

  علیم خان نے کہا کہ مستقبل قریب میں آئی پی پی کے نئے ممبران نظر آئیں گے، کیونکہ سیاستدان مسلسل انتخابات کیلے تیار رہتے ہیں۔