اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی درخواست مسترد کر دی

فوٹو بشکریہ گوگل امیجز
فوٹو بشکریہ گوگل امیجز

اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی درخواست مسترد کر دی

 

فوٹو بشکریہ گوگل امیجز
فوٹو بشکریہ گوگل امیجز

 

چیئرمین پی ٹی آئی کی توشہ خانہ کیس میں الیکشن کمیشن کے 21 اکتوبر 2022 کے فیصلے کے خلاف درخواست واپس لینے کی درخواست مسترد کر دی گئی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ساڑھے دس ماہ سے زیر سماعت چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست پر مختصر فیصلہ سنایا۔

عدالت نے توشہ خانہ کیس میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف درخواست واپس لینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کیس کی سماعت اب اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہوگی۔

وکیل بیرسٹر علی ظفر نے چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے جنوری 2023 میں درخواست دائر کی اور موقف اختیار کیا کہ توشہ خانہ کیس میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف درخواست بھی لاہور ہائی کورٹ میں زیرسماعت ہے۔  سماعت کے لیے پانچ رکنی بینچ تشکیل دے دیا گیا ہے، اس لیے ہم اسلام آباد ہائی کورٹ سے اپنی درخواست واپس لے کر لاہور ہائی کورٹ میں اس کیس کی پیروی کرنا چاہتے ہیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل کی استدعا پر عدالت نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کردیا۔  سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کی نمائندگی کرنے والے ایڈووکیٹ امجد پرویز نے موقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف سب سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی۔

سماعت عدالت کے بجائے اسلام آباد ہائی کورٹ میں کی جائے، معاملہ ستمبر 2023 تک زیر التوا رہا، جس پر چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل کی جانب سے نئی درخواست دائر کی گئی۔  نئی درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ہم آپ کی پہلے سے زیر التوا درخواست کو جلد سماعت کے لیے مقرر کرتے ہیں۔  کیس کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔