خاور مانیکا کے ملازم نے عمران خان اور بشریٰ بی بی پر زنا کا الزام لگا دیا

فوٹو بشکریہ گوگل امیجز
فوٹو بشکریہ گوگل امیجز

خاور مانیکا کے ملازم نے عمران خان اور بشریٰ بی بی پر زنا کا الزام لگا دیا

فوٹو بشکریہ گوگل امیجز
فوٹو بشکریہ گوگل امیجز

 

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالتوں نے مبینہ غیر شرعی نکاح کیس میں درخواست کے قاعمران خان سماعت ہونے پر دلائل طلب کر لیے۔  مزید برآں خاور مانیکا کے گواہ اور ملازم نے اپنا مکمل بیان جاری کر دیا۔

خاور مانیکا کے دیرینہ کارکنوں میں سے ایک سید محمد چوہان کے بیٹے محمد لطیف نے گواہی دی کہ وہ گزشتہ 35 سالوں سے خاور فرید مانیکا کے لیے گھریلو ملازم کے طور پر کام کرتا تھا۔  جیسا کہ میں ان کا پرانا ملازم ہوں، میں ان کے خاندان کے ایک فرد کی طرح ہوں اور وہ مجھ سے کسی قسم کا پردہ نہیں رکھتے کیونکہ ان کے بچے بھی میرے ہاتھ سے پیدا ہوتے ہیں۔

مانیکا صاحب بنی گالہ، اسلام آباد، اور پیر غنی، پاکپتن شریف، لاہور میں مقیم ہیں۔ بنی گالہ اور میاں صاحب کے خاندان بھی بالترتیب اسلام آباد اور لاہور کے رہائشی تھے۔

خواہ مانیکا صاحب، درخواست گزار، کسٹم میں کام کرتے تھے اور ان کا تبادلہ یا تفویض کیا گیا تھا۔  تاہم ان کا خاندان اسلام آباد یا لاہور میں مقیم تھا۔  عمران خان 2015 میں ملزم نمبر 1 میاں صاحب کی بنی گالہ رہائش گاہ پر جانے لگا۔  ملزم نمبر 1 2015 میں وقتاً فوقتاً بنی گلہ کے گھر آیا کرتا تھا۔ عمران خان نے 2016-17 میں میاں صاحب کے گھر زیادہ دورے کیے۔

عمران خان کبھی ڈرائیور کے ساتھ آتے، کبھی اکیلے آتے اور کئی مواقع پر ڈرائیور کو پیچھے چھوڑ کر شام کا بیشتر حصہ گزارتے۔  اس کے ساتھ کبھی کبھار ایک کلین شیون آدھا لڑکا بھی ہوتا۔

جب خاور مانیکا صاحب آس پاس نہیں ہوتے تھے تو عمران خان اکثر ان کے گھر جاتے تھے۔  جب میاں صاحب کو آپا بشریٰ بی بی ملزمہ نمبر 2 سے بات کرنے کی ضرورت پڑتی تو وہ اکثر ان کے فون پر رابطہ کرتے۔  اگر وہ وہاں نہیں ہوتی تو وہ میرے نمبر پر کال کرے گا اور میں پھر ان کی بات کرواتا۔

اندر داخل ہونے پر میں نے دیکھا کہ عمران خان اور بشریٰ خان ڈرائنگ روم کی بجائے اپنے کمرے میں ہیں۔  میں نے ملزم نمبر 1 اور 2 کو تین یا چار بار زنا کرتے ہوئے دیکھا،

ان واقعات کے بعد میاں صاحب اور بشریٰ بی بی میں جھگڑا شروع ہوا اور 2017 کے آخر میں میاں صاحب نے آپا بشریٰ کو طلاق دے دی۔ اور جب میاں صاحب نے فون کیا۔  میں نے اکثر عمران خان کو بشریٰ بی بی کے ساتھ ڈرائنگ روم میں فحش حرکات کرتے دیکھا۔

جب میں آپا بشریٰ بی بی کو میاں صاحب سے بات کرنے کے لیے جاتا تو مجھے متعدد طعنے ملتے تھے۔  میاں صاحب نہ ہوتے تو شاید آپا بشریٰ مجھے میرے کام سے نکال دیتے۔