افغان طالبان کا فلسطین کو آزاد کروانے کا بیان,اسرائیل نے امریکہ سے مدد طلب کرلی

فوٹو بشکریہ گوگل امیجز
فوٹو بشکریہ گوگل امیجز

افغان طالبان کا فلسطین کو آزاد کروانے کا بیان,اسرائیل نے امریکہ سے مدد طلب کرلی

فوٹو بشکریہ گوگل امیجز
فوٹو بشکریہ گوگل امیجز

 

افغانستان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے فلسطین کے بارے میں دیئے گئے ریمارکس نے امریکہ سمیت چند عرب ممالک میں تنازعہ کو جنم دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اس ضمن میں قطر کے ذریعے طالبان حکومت سے رابطہ کرنے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق ہفتے کے روز فلسطینی عالم محمد علی ملابی کی قیادت میں ایک فلسطینی وفد نے سراج الدین حقانی سے ملاقات کی اور ان کو فلسطین کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا۔

اس دوران سراج الدین حقانی کا کہنا تھا کہ فلسطین کے مسئلے کے حل کیلئے ایک منصوبے پر کام کر رہے اور فلسطین کے مسئلے کا حل قریب آگیا ہے۔ افغان نوجوانوں کو فخر ہوگا، اگر وہ فلسطین کی آزادی کے اس منصوبے کا حصہ بنیں۔ کیونکہ فلسطین کی آزادی ہمارا دیرینہ خواب ہے۔

طالبان وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ، یہ افغان حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مظلوم مسلمانوں کی عملی مدد کریں اور اب وقت آگیا ہے کہ موجودہ وسائل میں رہتے ہوئے غزہ کے مسلمانوں کی مدد کی جائے اور اس راستے میں رکاوٹیں ڈالنے والے اسلامی ممالک سے بات کی جائے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان وزیر داخلہ کے اس بیان کے بعد اسرائیل نے باضابطہ طور پر امریکہ سے مدد طلب کرلی ہے۔ کیونکہ افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے زیر نگرانی ایک بڑی تربیت گاہ کے جوانوں کے پاس جدید امریکی اسلحہ بھی ہے۔ اور یہ امریکی اسلحہ غزہ پہنچ سکتا ہے۔

اس حوالے سے بعض عرب ممالک میں بھی تشویش پائی جاتی ہے کہ اسرائیلی حملوں نے عرب نوجوانوں کو مضطرب کردیا ہے اور یہ نوجوان تربیت کے لئے افغانستان کا رخ کرسکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس حوالے سے امریکہ کا قطر کے ذریعے افغان طالبان سے رابطے بحال کرنے کا امکان ہے۔ کیونکہ حال ہی میں ایک امریکی وفد نے کابل کا دورہ کیا ہے اور کابل کے نئے شہر میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ امریکی وفد نے سراج الدین حقانی سے ملاقات کی خواہش بھی کی تھی۔ لیکن انہوں نے امریکی وفد سے ملاقات سے انکار کردیا تھا۔

ذرائع کے مطابق افغان وزیر دفاع مووی یعقوب نے بھی افغان کمانڈوز کی تربیت کی تکمیل کی تقریب میں کھل کر فلسطین کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے افغان کمانڈوز سے کہا کہ شاید ایسا وقت آجائے کہ آپ کو فلسطین تنازعے میں کردار ادا کرنا پڑجائے۔ کیونکہ غزہ میں ہونے والی ظلم و بربریت پر اب مزید ہم خاموش نہیں رہ سکتے۔

ذرائع کے مطابق افغان وزیر دفاع اور داخلہ کی جانب سے کھل کر حماس کی حمایت نے امریکہ کو تشویش میںمبتلا کردیا ہے۔ کیونکہ افغانستان میں جدید امریکہ اسلحہ اب بھی موجود ہے اور یہ اسلحہ مختلف راستوں سے غزہ پہنچ سکتاہے۔ ذرائع کے مطابق حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ کی جانب سے بھی حالیہ دنوں میں طالبان کے امیر مولوی ہیبت اللہ اخونزادہ کو ایک پیغام میں طالبان حکومت کی حمایت کا شکریہ ادا کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق ایران نے طالبان حکومت کو ہر طرح کی سہولیات دینی شروع کردی ہے، کیونکہ ایران ممکنہ اسرائیلی جنگ کی طوالت سے لبنان اور شام میں اپنے زیر اثر جنگجوئوں کی طاقت بڑھانا چاہتا ہے۔ اور یہ امریکی اسلحہ سے ممکن ہے۔ کیونکہ ماضی میں روس یہ کمی پورا کرسکتا تھا۔ لیکن یوکرین جنگ کی وجہ سے ایران کو روسی اسلحہ کی سپلائی بند ہے اور ایران خطے میں موجود اپنی پوزیشن کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اس لئے ایران کی طالبان حکومت کے ساتھ دوستی ہی ایران کی موجودہ پوزیشن برقرار رکھ سکتی ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ دو روز قبل ایران نے جنرل اسماعیل کو افغانستان کے حوالے سے ایرانی میڈیا کو دی گئی انٹرویو روک دیا اور انہیں بتایا کہ وہ افغانستان کے حوالے سے ایران کا نمائندہ بننے کی کوشش نہ کریں، بلکہ کئی افغان اپوزیشن رہنمائوں کو ایران میں کاروبار بند کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ امریکہ کو افغان وزیر دفاع اور داخلہ کی جانب سے حماس کی واضح حمایت پر تشویش ہے۔  کیونکہ افغانستان میں ابھی بھی عصری امریکی ہتھیار موجود ہیں جنہیں کئی طریقوں سے غزہ تک پہنچایا جا سکتا ہے۔  ذرائع کا دعویٰ ہے کہ طالبان رہنما مولوی ہیبت اللہ اخونزادہ کے نام ایک حالیہ پیغام میں حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ نے بھی طالبان حکومت کی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔

  ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ایران نے شام اور لبنان میں اپنے زیر کنٹرول جنگجوؤں کو مضبوط کرنے اور ممکنہ طور پر اسرائیلی جنگ کو طول دینے کی کوشش میں طالبان حکومت کو وسیع پیمانے پر سہولیات کی پیشکش شروع کر دی ہے۔  اور امریکی ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے، یہ قابل حصول ہے۔  کیونکہ روس اس فرق کو پورا کرنے کے قابل تھا۔  تاہم، یوکرین کے تنازعے کی وجہ سے، ایران روسی ہتھیار حاصل کرنے سے قاصر ہے، اور وہ اپنی علاقائی حیثیت کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

  نتیجتاً، ایران کی موجودہ حیثیت صرف طالبان انتظامیہ کے ساتھ اس کے اتحاد سے ہی محفوظ رہ سکتی ہے۔  اور اسی وجہ سے ایران نے دو روز قبل ایرانی میڈیا کو انٹرویو کے دوران جنرل اسماعیل پر زور دیا کہ وہ افغانستان میں ایران کے سفیر کے طور پر کام کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے متعدد افغان اپوزیشن شخصیات کو ایران بھیجیں۔  مجھے کمپنی بند کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔