پانچ ماہ بعد پہلی بار سابق وزیراعظم عمران خان کی صحافیوں سے بات چیت

فوٹو بشکریہ گوگل امیجز
فوٹو بشکریہ گوگل امیجز

پانچ ماہ بعد پہلی بار سابق وزیراعظم عمران خان کی صحافیوں سے بات چیت

فوٹو بشکریہ گوگل امیجز
فوٹو بشکریہ گوگل امیجز

5 اگست کے بعد پہلی بار سابق وزیراعظم عمران خان نے سائفر لاپتہ کیس کی اڈیالہ جیل میں سماعت پر بات کی۔

سائفر کیس کی سماعت کے بعد کمرہ عدالت میں صحافی نے سوال کیا کہ آپ سے مذاکرات کس نے کیے؟  عمران خان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ زیادہ عرصہ جیل میں رہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، نہ کسی نے مجھ سے ملاقات کی اور نہ ہی مجھ سے کوئی بات چیت کی۔

عمران خان نے دعویٰ کیا کہ ‘9 مئی لندن پلان کا حصہ تھا، سی سی ٹی وی دیکھیں جو انہیں لے گئے، 48 گھنٹوں میں 10 ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا جب کہ مجھے غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گیا’۔

سبکدوش ہونے والے وزیراعظم نے اعلان کیا کہ میں حلف اٹھانے کے لیے تیار ہوں۔  شادی کے دن میں نے بشریٰ کو دیکھا۔  لندن سے منصوبہ نواز شریف کو قتل کر کے ہمیں قید کرنے کا تھا۔  آج میں اس بات پر بضد ہوں کہ پی ٹی آئی الیکشن میں کامیاب ہو گی۔  ان انتخابات سے بچنے کی کوشش نہ کریں۔

تاہم جب میڈیا نے شاہ محمود سے عدالت میں بیرسٹر گوہر کے پی ٹی آئی چیئرمین منتخب ہونے کے حوالے سے سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ چیئرمین کی موجودگی میں بتانا چاہتا ہوں کہ مجھے کسی عہدے کی ضرورت نہیں، میں کل بھی پی ٹی آئی کے ساتھ تھا، آج بھی ہوں۔  میں ہوں، اور میں ہمیشہ رہوں گا۔

شاہ محمود قریشی کے مطابق جو لوگ قانون کی حکمرانی کے حامی ہیں اور جو کچھ نظریات رکھتے ہیں انہیں ووٹ ڈالنا چاہیے