جنگ بندی کے بعد اسرائیل کا حماس کا اہم کمانڈر مرنے کا دعویٰ

فوٹو بشکریہ گوگل امیجز
فوٹو بشکریہ گوگل امیجز

جنگ بندی کے بعد اسرائیل کا حماس کا اہم کمانڈر مرنے کا دعویٰ

 

فوٹو بشکریہ گوگل امیجز
فوٹو بشکریہ گوگل امیجز

 

غزہ میں عارضی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیل کی وحشیانہ بمباری میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 300 سے تجاوز کر گئی جب کہ 5 ہزار سے زائد زخمی ہو گئے۔

غزہ میں جنگ بندی کو ختم ہوئے 2 دن ہوچکے ہیں اور ان دو دنوں میں اسرائیل نے غزہ پر 400 سے زائد بار حملے کیے ہیں۔  زیادہ تر حملے خان یونس اور جبالیہ کیمپ پر کیے گئے۔

اسرائیل کی اس وحشیانہ کارروائی میں 24 گھنٹوں کے قلیل عرصے میں 700 سے زائد فلسطینی شہید اور 5 ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔  شہید اور زخمی ہونے والوں میں نصف سے زیادہ خواتین اور بچے ہیں۔

قابض اسرائیلی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی داخلی سیکیورٹی سروس شن بیٹ نے حماس کی شجائیہ بریگیڈ کے کمانڈر وسام فرحت کو ایک حملے میں ہلاک کیا، جس نے 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حملے کی منصوبہ بندی بھی کی تھی۔

اسرائیلی فوج نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وسام فرحت 10 سال اسرائیلی جیل میں گزارنے اور رہا ہونے کے بعد دوبارہ غزہ میں حماس میں شامل ہو گئے ہیں اور ان کے لیے راکٹ بنا رہے ہیں۔

قابض اسرائیلی فوج نے 7 اکتوبر کو حماس کے ایک حملے میں اس کے کمانڈر اسف حمامی کے مارے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حماس کمانڈر کی لاش اپنے ساتھ لے گئی ہے۔

دوسری جانب اسرائیل نے مسجد الاقصیٰ کے مبلغ شیخ صابری کے گھر پر چھاپہ مارا اور ان کے اہل خانہ کو ہراساں کیا جب کہ اطلاعات ہیں کہ شیخ صابری کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ 7 اکتوبر سے غزہ پر جاری اسرائیلی بمباری میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 15 ہزار 800 سے تجاوز کر گئی ہے جب کہ فلسطینیوں کی تعداد 40 ہزار 500 سے تجاوز کر گئی ہے۔شہید اور زخمی ہونے والوں میں نصف خواتین اور بچے ہیں۔