پارٹی کی چیئرمین شپ کے لیے عمران خان کا کیا فیصلہ ہے شیر افضل مروت نے سب بتا دیا

فوٹو بشکریہ گوگل امیجز
فوٹو بشکریہ گوگل امیجز

پارٹی کی چیئرمین شپ کے لیے عمران خان کا کیا فیصلہ ہے شیر افضل مروت نے سب بتا دیا ہے

 

فوٹو بشکریہ گوگل امیجز
فوٹو بشکریہ گوگل امیجز

 

سابق وزیراعظم عمران خان کے وکیل شرافضل مروت کے مطابق سابق رہنما نے توشہ خانہ کیس میں نااہلی کے باعث اس بار پارٹی چیئرمین کے لیے انتخاب نہ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

  اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے وکیل شیر افضل خان مروت نے کہا کہ ہم نے عمران خان کو بتا دیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے نے انہیں معطل کر دیا ہے۔  عمران خان کو پی ٹی آئی کی چیئرمین شپ سے ہٹانا ایک اور محرک تھا۔

  انہوں نے اعلان کیا کہ ‘چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان قانونی پابندی کی وجہ سے اس بار چیئرمین پی ٹی آئی کے لیے امیدوار نہیں ہوں گے’۔

  ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عمران خان کی اس بار توشہ خانہ کیس کے فیصلے کو چیلنج کرنے کی نااہلی انہیں قانونی اور آئینی طور پر پارٹی چیئرمین کے لیے انتخاب لڑنے سے روکتی ہے۔

  انہوں نے اعلان کیا کہ ‘خان صاحب نے خود فیصلہ کیا ہے کہ وہ اس بار پی ٹی آئی کی چیئرمین شپ کے لیے انتخاب نہیں لڑیں گے، اور متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ عدالت کی جانب سے نااہلی کا حکم ختم ہوتے ہی انھیں دوبارہ پی ٹی آئی کا چیئرمین بنا دیا جائے گا۔

  ان کا کہنا تھا کہ ‘انتخابات چاہے ہوں، عمران خان پی ٹی آئی کے چیئرمین ہیں، یہ عارضی مشکلات ہیں، جب بھی یہ نااہلی ختم ہوگی، عمران خان دوبارہ پی ٹی آئی کے چیئرمین ہوں گے’۔

  خیال رہے کہ 20 نومبر کو پاکستانی الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو اندرونی انتخابات کرانے کے لیے 20 دن کا نوٹس دیا تھا۔

  اس سے قبل یہ طے پایا تھا کہ اڈیالہ جیل حکام کی جانب سے سیکیورٹی خدشات کے باعث پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کو خصوصی عدالت میں پیش کرنے سے معذرت کے بعد کیس کا اوپن ٹرائل اڈیالہ جیل میں ہوگا۔