جنگ بندی کے بعد بھی اسرائیل غزہ پر حملہ کرنے سے باز نہ آیا

جنگ بندی مفاہمت کے بعد بھی اسرائیلی فوج غزہ پر حملے کرنے سے باز نہیں آرہی۔ صیہونی فوجیوں نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 250 سے زائد مقامات کا محاصرہ کیا، جس کے نتیجے میں مزید 17 فلسطینی شہید ہو گئے، شہداء کی تعداد 14 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے سمجھوتے کے بعد اسرائیلی توپیں مسلسل دھماکہ خیز مواد کو غزہ پے برسا رہی ہے جس سے خان یونس اور بوریج کے سکول ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو رہے ہیں۔
حماس نے جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کر دی ہے، اسرائیلی دشمنی درحقیقت قطر میں معاہدے کے بعد آگے بڑھ رہی ہے، حراست میں لیے گئے افراد کو کل صبح سے رہا کرنے کے لیے رفح کراسنگ سے تجارت کی جائے گی۔
دوسری جانب حماس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اسرائیل فلسطینیوں کو نشانہ بنانے سے باز نہیں آ رہا، ہم جنگ بندی کے بعد ملبے کے نیچے سے لاشیں نکالنے جا رہے ہیں، ایندھن پہنچانے اور علاج مالجے کے لیے اہم اقدامات کر رہے ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ فلسطین میں آخری مسلمان کو ختم کرنے تک جنگ جاری رہے گی یہ جنگ بندی عارضی ہے ہم لڑائی نہیں روکیں گے فلسطین پر حملے جاری رکھیں گے